شہناز بلوچ پر قاتلانہ حملہ، افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر سنگین سوالات

افغانستان کے صوبے بامیان میں بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے قافلے پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ شہناز بلوچ شدید زخمی ہو گئی۔
شہناز بلوچ پر قاتلانہ حملہ، افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر سنگین سوالات

بامیان میں کالعدم بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ کے موٹر کیڈ پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک اور کمانڈر شدید زخمی۔ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس فعال۔

July 29, 2026

افغانستان کے جنوبی صوبے بامیان میں نامعلوم مسلح افراد نے بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ کے موٹر کیڈ کو حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 2 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ شدید زخمی ہوئی۔ واقعے کے بعد افغان طالبان کی سیکیورٹی فورسز نے زخمی کمانڈر کو تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد افغانستان کی انتظامیہ کی سکیورٹی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ افغان سرزمین پر طالبان مخالف اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے ٹارگٹڈ کارروائیوں اور باہمی تصادم کی لہر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ افغانستان اس وقت کالعدم بی ایل اے، القاعدہ اور داعش جیسے عالمی و علاقائی دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی جانب سے بارہا نشاندہی کے باوجود ان کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک افغانستان کے مختلف علاقوں میں بلا رکاوٹ سرگرم ہیں، جہاں سے وہ ناصرف کارروائیاں ترتیب دیتے ہیں بلکہ خطے اور بالخصوص پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی کا شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے اپنے پہلے مقامی ساختہ میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات میں دو مسلم امیدوار کامیاب ہوگئے۔ غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی نیو جرسی سے کانگریس پہنچ گئے۔

November 4, 2026

افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں نیشنل فریڈم فرنٹ کے حملے کے بعد طالبان کے عسکری کندک میں شدید خوف پھیل گیا، واقعے میں 3 طالبان ہلاک اور 1 زخمی ہو گیا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی ایک بار پھر غیر ملکی سیاست سے امیدیں وابستہ کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عدالتی نظام پر ان تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *