خیبر پختونخوا میں شعبۂ صحت شدید بحران کا شکار ہو کر عملاً وینٹی لیٹر پر پہنچ چکا ہے، جہاں سرکاری ہسپتالوں میں جگہ اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو صرف آکسیجن کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں سے باہر چھوڑا جا رہا ہے۔
عوامی و طبی حلقوں کے مطابق کے پی کے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں، ضروری ادویات اور بنیادی طبی آلات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ شدید بیمار مریض ہسپتالوں کے اندر جگہ نہ ملنے کے باعث باہر تڑپنے اور محض آکسیجن سلنڈر کے سہارے رہنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ایک طرف صوبے میں ترقی اور اصلاحات کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب زمینی حقائق یہ ہیں کہ مریض بنیادی علاج اور چھت سے بھی محروم ہیں۔ حکومت کا شعبۂ صحت انتظامی نااہلی اور غفلت کی بدترین تصویر پیش کر رہا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے صحت کے نظام میں بہتری اور ہسپتالوں کی تجدید کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ یہ تمام دعوے کاغذات تک محدود ہیں جبکہ ہسپتالوں کے باہر تڑپتے مریض حکومتی ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہسپتالوں کی صورتحال میں فوری بہتری نہ لائی گئی اور بنیادی طبی وسائل فراہم نہ کیے گئے تو کے پی کا یہ مفلوج صحتی نظام ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔
دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک