حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام پشاور میں منعقدہ قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کنونشن کے اختتام پر متفقہ پشاور اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے رہنماؤں نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف مکمل قومی یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
کنونشن میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبدالرحیم، ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، اور علامہ عارف واحدی سمیت ملک بھر کے جید علماء، اقلیتی رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر پیغامِ پاکستان کے قومی بیانیے، متفقہ فتویٰ اور ضابطہ اخلاق کی توثیق کی۔
پشاور اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اسلام امن، اعتدال اور برداشت کا دین ہے، جبکہ خودکش حملے، بے گناہ انسانوں کا قتل اور عوامی و قومی تنصیبات پر حملے شرعی و آئینی طور پر حرام ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ جہاد، قتال اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاستِ پاکستان کو حاصل ہے اور کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز نہیں۔
اعلامیے میں افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز اور سکیورٹی اداروں سمیت شہدا کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، مقدس شخصیات کے احترام، اور تمام مذہبی یا سیاسی اختلافات کو آئین و قانون کے دائرے میں حل کرنے پر زور دیا گیا۔
علمائے کرام نے سوشل میڈیا اور میڈیا سے جھوٹ، افواہوں اور نفرت انگیز پراپیگنڈے سے گریز کا مطالبہ کیا، جبکہ نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ اور ریاستی اداروں کے مشترکہ تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
دیکھیے: جیو ٹی وی کیس؛ مذہبی علامات کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ارسال