جہاد و طاقت کا اختیار صرف ریاست کو ہے: علماء و مشائخ کنونشن کا اعلامیہ جاری

پشاور میں قومی پیغامِ امن کنونشن میں متفقہ پشاور اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو قرار دے دیا۔
پشاور اعلامیہ جاری، علماء و مشائخ کا دہشت گردی کے خلاف متفقہ عزم

پشاور اعلامیہ: علماء و مشائخ کنونشن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ بیانیہ جاری۔ ریاست کے سوا کسی کو جہاد یا طاقت کے استعمال کا اختیار نہیں۔

July 29, 2026

حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام پشاور میں منعقدہ قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کنونشن کے اختتام پر متفقہ پشاور اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے رہنماؤں نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف مکمل قومی یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

کنونشن میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبدالرحیم، ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، اور علامہ عارف واحدی سمیت ملک بھر کے جید علماء، اقلیتی رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر پیغامِ پاکستان کے قومی بیانیے، متفقہ فتویٰ اور ضابطہ اخلاق کی توثیق کی۔

پشاور اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اسلام امن، اعتدال اور برداشت کا دین ہے، جبکہ خودکش حملے، بے گناہ انسانوں کا قتل اور عوامی و قومی تنصیبات پر حملے شرعی و آئینی طور پر حرام ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ جہاد، قتال اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاستِ پاکستان کو حاصل ہے اور کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز نہیں۔

اعلامیے میں افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز اور سکیورٹی اداروں سمیت شہدا کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، مقدس شخصیات کے احترام، اور تمام مذہبی یا سیاسی اختلافات کو آئین و قانون کے دائرے میں حل کرنے پر زور دیا گیا۔

علمائے کرام نے سوشل میڈیا اور میڈیا سے جھوٹ، افواہوں اور نفرت انگیز پراپیگنڈے سے گریز کا مطالبہ کیا، جبکہ نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ اور ریاستی اداروں کے مشترکہ تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

دیکھیے: جیو ٹی وی کیس؛ مذہبی علامات کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ارسال

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *