یہ کہانی ایک ایسی سلطنت کی ہے ۔۔ جہاں بادشاہ کا چناؤ بہت ہی عجیب و غریب انداز سے کیا جاتا تھا ۔۔ محل کے عقب میں ایک بہت بڑا صحن ہوتا، جو ہر عام شخص کے لیے کھلا رہتا ۔۔ اگر سلطنت کا پرانا بادشاہ مر جاتا یا مار دیا جاتا تو دوسرا بادشاہ مقرر کرنے کے لیے وہاں کے رعایا اور وزرا ایک مقررہ دن پر چھپ کر وسیع و عریض صحن کے گرد جمع ہوجاتے اور صحن میں پہنچنے والے پہلے شخص کو اپنا سربراہ یا بادشاہ چن لیتے ۔۔
اُس روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔۔ سلطنت کا بادشاہ چونکہ مر چکا تھا تو نئے بادشاہ کے انتخاب کے لیے صحن کے گرد گھیرا ڈالے وزرا اور رعایا پہلے سے موجود تھے۔۔ اسی دوران وہاں ایک صدا لگاتا بھکاری پہنچا کہ شاید کوئی اس کا کاسہ بھر دے ۔۔ لیکن اسے دیکھتے ہی وہاں پہلے سے موجود لوگوں نے اچانک شور مچادیا کہ انہیں سلطنت کا نیا بادشاہ مل گیا ۔۔
وہ بھکاری بھی حیران تھا کہ یہ ہوا کیا ہے ۔۔ لیکن اندھے کو کیا چاہیے ۔۔ دو آنکھیں؟
بادشاہ کیا بنے ! صاحب کے تو تیور ہی بدل گئے ۔۔ سلطنت میں آؤ بھگت اور شاہانہ انداز نے بھکاری کی بے قراری کو ایسا دوام بخشا کہ پھر اس کی فراری شاہی سواری میں تبدیل ہوگئی ۔۔
لیکن وہ کہتے ہیں نا ۔۔ کہ مرتی مر گئی مگر لالی نہیں گئی ۔۔ وزرا جب بھی بھکاری سے مشورے کے لیے آتے تو وہ ان کو ایک حکمت بھری بات سمجھاتا کہ ’’حلوہ پکاؤ اور کھاؤ‘‘ ۔۔
رعایا بھی خوش ،، وزرا بھی خوش کہ بادشاہ سلامت تو کسی مشقت اور پریشانی میں ڈالے بغیر صرف حلوہ پکانے اور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔
بس ! یہی ہمارا بہترین بادشاہ ہے ۔۔
البتہ ان میں ایک وزیر ایسا تھا جسے یہ حلوہ ہضم نہیں ہورہا تھا ۔۔ اُسے انتہائی تشویش ہوئی اور وہ بادشاہ سلامت کے پاس پہنچا ۔۔ عرض کی! حضور اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا اور شاہی رسوئی میں حلوہ بنتا رہا تو سلطنت کمزور پڑ جائے گی ۔۔ لہذا کچھ توجہ ریاستی پالیسیز کی بہتری اور مملکت کی فلاح پر بھی فرمائیے ۔۔
لیکن بادشاہ کی زبان تو گویا مالا جھپتی دکھائی دیتی ۔۔ بحث نہ کرو! بس ’’حلوہ پکاؤ اور کھاؤ‘‘
یہاں شاہی رسوئی میں حلوہ پکتا رہا اور ساتھ والی دشمن سلطنت کو یہ خبر پہنچ گئی ۔۔ دشمن سلطنت کے ایک وزیر نے اپنے بادشاہ کو ساری روداد سنائی ۔۔
وہ بھی حیران رہ گیا کہ آخر ایسا کون سا بادشاہ آگیا جس کی ساری حکمت حلوے میں ہے ۔۔
دشمن سلطنت نے بھکاری کی سطلنت پر حملے کا فیصلہ کرلیا ۔۔
یہ خبر جب وزیر تک پہنچی تو وہ فوراً بھاگتا ہوا بادشاہ سلامت کے پاس پہنچا اور کہا! ظلِ الٰہی دشمن ریاست نے ہم پر حملے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔
لیکن’’مرے کو سو دُرے‘‘ بھکاری بادشاہ پر کوئی اثر ہی نہیں ۔۔ کہا فکر نہ کرو ’’حلوہ پکاؤ اور کھاؤ‘‘ ۔۔
سب مطمئن ہوگئے ۔۔ کہ شاید بھکاری کی حکمت عملی حلوے میں ہی چھپی ہے ۔۔
بہرحال رعایا اور وزرا حلوہ پکاتے رہے اور کھاتے رہے ۔۔
حالات یونہی چین کی بانسری بجاتے رہے ۔۔
اور ایک دن واقعی دشمن ملک نے بھکاری بادشاہ کی سلطنت پر حملہ کردیا اور دشمن فوجیں محل تک آن پہنچیں ۔۔ وزرا دوڑے دوڑے بادشاہ کے پاس آئے کہ ظلِ الہی دشمن گھر تک آگیا ہے!
تو بھکاری بادشاہ نے مطمئن ہو کر جواب دیا ’’حلوہ پکاؤ اور کھاؤ‘‘
بھکاری بادشاہ یہ کہتا ہوا اپنا کاسہ اٹھا کر چلتا بنا ۔۔ اور جاتے جاتے یہ کہنے لگا ’’میں تو بھکاری ہوں مجھے کیا پتہ سلطنت کس بلا کا نام ہے اور یہ کیسے چلتی ہے؟‘‘ تم تو بس حلوہ پکاؤ اور کھاؤ !
وزرا ایک دوسرے کو تکتے رہے اور انگشت بدنداں ہوگئے۔۔
لیکن وقت گزر چکا تھا اور سلطنت پر دشمن قابض ہوچکے تھے ۔۔
ناظرین یہ کہانی اگرچہ افسانوی بھی ہو ۔۔ لیکن یہ نشاندہی کر رہی ہے پاکستان کے ایک اہم ترین صوبے کی ۔۔ جس کا نام ہے خیبر پختونخوا ۔۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔۔
جہاں وزرا ’’سب اچھا ہے‘‘ کا راگ الاپتے ہیں اور اپنے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں ۔۔
وہاں بیان بازی کرنے والے وزرا اور مشیر جانتے ہیں کہ ان سے کچھ ہو نہیں رہا ، ان کے پاس اپنے صوبے کے لوگوں کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے ۔۔ کوئی منظم پلان نہیں ہے ۔۔ وہ تو اپنے صوبے کے عوام سے بس یہی فرما رہے ہیں کہ ’’گھبرانا نہیں‘‘ آپ حلوہ پکاؤ اور کھاؤ!
جبکہ عوام کے دشمن بادشاہ بھی ایسے ہی وزرا ہیں جو اپنے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔۔ اپنی چکنی چُپڑی باتوں میں گھیر کر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔۔
اِن وزیروں کے ایجنڈا مسلسل سیاسی عدم استحکام ، محاذ آرائی کی پالیسی ، ریاست مخالف سرگرمیاں ہیں ، خیبر پختونخوا میں گویا عوامی مسائل سے بڑھ کر لگتا ہے ، اِن انا پرست بادشاہوں کا مدعہ صرف اِن کے ذاتی مفادات ہیں۔۔
یہاں میرا سوال اِن نام نہاد بادشاہوں سے نہیں ۔۔ بلکہ رعایا سے ہے ۔۔ کیا انہیں اسی طرح اُن بادشاہوں کے زیر اثر اپنی زندگی گزارنی ہے جو صرف ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ کہہ کر عوام سے ان کا چین اور سکون چھین لیتے ہیں ؟
یا پھر اپنی ریاست کو مضبوط کرکے خود کو اور اپنی نسلوں کو مضبوط کرنے کے لیے ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے ؟
اگر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا ؟
تو پھر خیبرپختونخوا جیسے محل کے خوبصورت اور وسیع صحن میں ایک نیا ’’بھکاری‘‘ آپ کو ایک نئی فریاد لیے کھڑا ملے گا ۔۔
باقی فیصلہ آپ کا ہے!
حلوہ پکا کر کھانا ہے ۔۔ یا اپنے مستقبل کے لیے پکا پکایا حلوہ تیار کروانا ہے۔۔