لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

عوام نے فیصلہ کیا تو صوبے بن کے رہیں گے، بڑا مؤقف سامنے آگیا

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔
عوامی رائے اور نئے صوبوں کا معاملہ

نئے صوبوں کے قیام پر اہم مؤقف، عوامی رائے کو بنیادی اہمیت دینے اور آئینی طریقہ کار کے تحت فیصلہ کرنے پر زور۔

September 16, 2026

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اہم مؤقف سامنے آ گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی بھی حکومت اس فیصلے کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔

مؤقف میں کہا گیا ہے کہ عوامی رائے جمہوری عمل میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام واضح طور پر نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ کریں اور اس مطالبے کو عوامی تائید حاصل ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

سندھ ہو یا کوئی اور حکومت

مؤقف کے مطابق سندھ ہو یا ملک کی کوئی بھی صوبائی حکومت، محض مخالفت کی بنیاد پر عوامی مطالبے کو ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔ تاہم نئے صوبے کا قیام آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہوگا۔

پاکستان کے آئین کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمان میں آئینی ترمیم کا عمل ضروری ہے۔ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی اس عمل کا حصہ ہے۔

اس لیے نئے صوبوں کی بحث صرف سیاسی مخالفت تک محدود نہیں۔ اصل معاملہ عوامی رائے، انتظامی ضرورت اور آئینی تقاضوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔

عوامی مفاد سب سے بڑھ کر

نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انتظامی تقسیم کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر حکمرانی، فوری سہولتیں اور مؤثر نمائندگی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

اگر عوام کسی علاقے کے انتظامی مستقبل کے بارے میں واضح رائے دیتے ہیں تو اس رائے کو سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ عوامی مفاد ہی کسی بھی انتظامی فیصلے کا بنیادی محور ہونا چاہیے۔

نئے صوبوں کا فیصلہ بہرحال آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے ہوگا، تاہم اس بحث میں عوامی رائے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

دیکھیے: نئے صوبے آخر کیوں ضروری ہیں؟

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *