ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔

September 16, 2026

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

September 16, 2026

مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ڈرون حملے میں کالعدم بی ایل اے کے 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

September 16, 2026

اربوں روپے خرچ، بنیادی سہولتیں غائب: سندھ کی ابتر صورتحال پر شدید تنقید

ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔
سندھ میں بدحالی، ترقی کے دعوؤں پر بڑا سوال

سندھ میں ترقی کے دعوے، مگر زمینی حقیقت کچھ اور! غیر محفوظ اسکول، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص نکاسی آب نے حکمرانی پر سوال اٹھا دیے۔

September 16, 2026

سندھ میں ترقی کے سرکاری بیانیے پر بڑا سوال اٹھا دیا گیا۔ نگاہ میں شائع مضمون سندھ میں ترقی کا اصل چہرہ میں سہیل جاوید نے صوبے میں بنیادی سہولتوں کی ابتر صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مضمون کے مطابق سندھ کے کئی علاقوں میں اسکول غیر محفوظ ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور نکاسی آب کا نظام شہریوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ عوامی خدمات کی کمزور صورتحال نے بھی حکمرانی کے انداز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عوامی پیسہ؟

تحریر میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر اربوں روپے کے ترقیاتی اخراجات کے باوجود شہریوں کو محفوظ اسکول، بہتر سڑکیں اور بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں تو پھر عوامی وسائل کے استعمال کا فائدہ کہاں پہنچ رہا ہے؟

مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی پیسہ زمین پر نظر آنے والی بہتری میں تبدیل ہونا چاہیے۔ بچوں کے لیے محفوظ اسکول، شہریوں کے لیے بہتر سڑکیں اور مؤثر نکاسی آب بنیادی ضرورتیں ہیں، کوئی اضافی سہولت نہیں۔

ذاتی مفادات مقدم

مضمون کے تناظر میں سندھ کی سیاست پر بھی اہم سوال اٹھتا ہے کہ انتظامی اور سیاسی فیصلے عوامی ضرورت کے مطابق ہوں گے یا ذاتی اور جماعتی مفادات کے تحت؟

تحریر کے مطابق عوامی مسائل کا حل سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تلاش کیا جانا چاہیے۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہو تو انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں سمیت ہر تجویز پر عوامی مفاد کی بنیاد پر بحث ہونی چاہیے۔

صوبے کی تقسیم کی مخالفت یا حمایت کسی جماعت یا حکومت کے ذاتی مفاد کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو بہتر حکمرانی، محفوظ تعلیمی ادارے، بہتر سڑکیں اور بنیادی سہولتیں کب ملیں گی؟

آخرکار عوامی وسائل عوام ہی کے لیے ہوتے ہیں، اس لیے فیصلہ بھی عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

September 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *