وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے موجودہ انتظامی اور اقتصادی نظام کو ناکافی اور فرسودہ قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوام اور نوجوانوں کو بروقت حقوق، میرٹ اور انصاف نہ ملا تو موجودہ ساخت برقرار نہیں رہ سکے گی۔
پاکستان کی پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 70 سے 80 سال سے چلنے والا نظام اب مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف عارضی اقدامات یا فائر فائٹنگ سے ملک کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ جمہوریت کی حقیقی روح کے مطابق انتظامی ڈھانچے کو تلے کی سطح تک منتقل نہ کیا جائے۔
نئے انتظامی یونٹس
وزیر داخلہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ نظام عام آدمی کو بنیادی سہولیات اور بروقت انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق جب تک ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس نہیں بنائے جائیں گے اور اختیارات عوام کی سطح پر منتقل نہیں کیے جائیں گے، تب تک نئی قیادت سامنے آئے گی اور نہ ہی مسائل ختم ہوں گے۔
نوجوانوں کی ضروریات
نوجوان طبقے پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو چند ہزار روپے یا ٹیبلٹس دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان صرف نظام کی درستگی، میرٹ اور شفاف روزگار کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر نوجوانوں کی خواہشات کا احترام نہ کیا گیا اور وہ منظم ہو گئے تو موجودہ ڈھانچہ الٹ سکتا ہے۔
معاشی پالیسیاں
وزیر داخلہ نے وفاقی بجٹ اور معاشی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال منفی بجٹ بنا کر مزید قرض لیا جاتا ہے لیکن نظام میں اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود اربوں ڈالر کی زرعی مصنوعات اور گندم کی درآمد کو انہوں نے انتظامی کمزوری قرار دیا۔
مذاکرات کی ضرورت
محسن نقوی نے کاروباری شخصیتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ محض سیمینارز اور تقریروں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ تمام سیاسی قیادت کو نئے یونٹس کی تشکیل اور ملک کے بنیادی مسائل پر طویل مدتی اور متفقہ پالیسی بنانا ہو گی۔