بیلسٹک فرانزک ماہرین کے مطابق نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے حالیہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین کے زخم پیلٹ گن سے فائر کیے گئے چھروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

August 2, 2026

برصغیر کے لیے اگست صرف ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یادوں کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے جشنِ آزادی کے عین درمیان ایک ایسی وادی ہے جس کی تقدیر کا فیصلہ 78 برس بعد بھی باقی ہے۔

August 2, 2026

المرصاد جیسے پلیٹ فارمز کے منفی پراپیگنڈے کا مقصد بلوچ اور پشتون عوام میں تفرقات پیدا کرنا ہے۔ ان حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔

August 2, 2026

سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی اور جمہوریہ کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ سامنے آنے والے جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مربوط فوجی مہم کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

August 2, 2026

مظفرآباد میں بلیک آؤٹ اور سیکیورٹی آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل خبریں مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ملک دشمن عناصر کا گمراہ کن پراپیگنڈا ہے۔

August 2, 2026

افغانستان میں سقوطِ کابل کے بعد 2021 سے 2026 تک کے پانچ برسوں میں عسکری منظرنامہ بدل چکا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مسلح مزاحمت تاحال جاری ہے۔

August 2, 2026

دہشت گردی کے خلاف جنگ: کے پی پولیس کے 2396 اہلکار شہید، رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا پولیس نے 25 سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2,396 افسران اور جوانوں کی قربانی دی۔ سال 2025 میں ریکارڈ 235 شہادتیں سامنے آئیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ: خیبرپختونخوا پولیس کے 2396 اہلکار شہید، رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا میں 25 سال کے دوران 2,396 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ 235 شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔

August 2, 2026

خیبرپختونخوا میں گزشتہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2 ہزار 396 پولیس افسران اور اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2002 کے بعد سے سب سے زیادہ 235 شہادتیں سال 2025 میں ریکارڈ کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق 1970 سے 1999 تک صوبائی پولیس کی 236 شہادتیں ہوئی تھیں، تاہم 2007 کے بعد خطے میں دہشت گردی کی لہر میں شدت آنے کے باعث پولیس فورس پر حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ناصرف اضافہ ہوا بلکہ 2007 میں 101 اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے بعد 2008 میں 172، 2009 میں 210، 2010 میں 108 اور سال 2011 میں 154 پولیس اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اعدادوشمار کے مطابق 2012 میں 106، 2013 میں 135 اور 2014 میں 111 اہلکار مختلف واقعات میں شہید ہوئے۔ چند برسوں کی نسبتاً کمی کے بعد 2022 میں ایک بار پھر پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں تیزی آئی اور 93 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 197 اور 2024 میں 169 تک جا پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں اب تک 150 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دہشت گردی کے ان حملوں میں نہ صرف کانسٹیبلز بلکہ اعلیٰ افسران بھی نشانہ بنے، جن میں 2 ایڈیشنل آئی جی، 2 ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی، 6 ایس پی، 21 ڈی ایس پی اور 51 انسپکٹرز شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد 1,649 کانسٹیبلز کی ہے۔

واضح رہے کہ صوبے بھر میں اگست کے مہینے میں “یومِ شہدائے پولیس” عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، جس کی مرکزی تقریب پشاور میں منعقد کی جائے گی جہاں ان بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

بیلسٹک فرانزک ماہرین کے مطابق نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے حالیہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین کے زخم پیلٹ گن سے فائر کیے گئے چھروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

August 2, 2026

برصغیر کے لیے اگست صرف ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یادوں کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے جشنِ آزادی کے عین درمیان ایک ایسی وادی ہے جس کی تقدیر کا فیصلہ 78 برس بعد بھی باقی ہے۔

August 2, 2026

المرصاد جیسے پلیٹ فارمز کے منفی پراپیگنڈے کا مقصد بلوچ اور پشتون عوام میں تفرقات پیدا کرنا ہے۔ ان حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔

August 2, 2026

سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی اور جمہوریہ کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ سامنے آنے والے جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مربوط فوجی مہم کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

August 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *