برطانوی جریدے ‘دی ٹیلی گراف’ کی رپورٹ نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، 34 لاکھ شہریوں کے انخلا، خواتین پر پابندیوں اور انسانی بحران کی سنگین تصویر پیش کر دی ہے۔

August 15, 2026

طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب کے الزامات پر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی پر ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔

August 15, 2026

یومِ آزادی کے موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا، ان کے تجربے کو قیمتی ادارہ جاتی اثاثہ قرار دیا۔

August 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی انٹرویو نے طالبان حکومت کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں سیاسی عدم شمولیت، 20 سالہ عبوری نظام اور پابندیوں پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 15, 2026

خاران کے علاقے لجے میں سکیورٹی فورسز کا فتنۂ ہندوستان کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ابتدائی طور پر 7 دہشتگرد ہلاک، سرچ آپریشن جاری۔

August 15, 2026

شمالی وزیرستان کے ٹنڈی گاؤں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مارٹر گولے کی زد میں آ کر ٹی ٹی پی کا خطرناک خارجی دہشتگرد ابوبکر عرف سبین ہلاک ہو گیا۔

August 15, 2026

دہشت گردی کے خلاف جنگ: کے پی پولیس کے 2396 اہلکار شہید، رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا پولیس نے 25 سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2,396 افسران اور جوانوں کی قربانی دی۔ سال 2025 میں ریکارڈ 235 شہادتیں سامنے آئیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ: خیبرپختونخوا پولیس کے 2396 اہلکار شہید، رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا میں 25 سال کے دوران 2,396 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ 235 شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔

August 2, 2026

خیبرپختونخوا میں گزشتہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2 ہزار 396 پولیس افسران اور اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2002 کے بعد سے سب سے زیادہ 235 شہادتیں سال 2025 میں ریکارڈ کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق 1970 سے 1999 تک صوبائی پولیس کی 236 شہادتیں ہوئی تھیں، تاہم 2007 کے بعد خطے میں دہشت گردی کی لہر میں شدت آنے کے باعث پولیس فورس پر حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ناصرف اضافہ ہوا بلکہ 2007 میں 101 اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے بعد 2008 میں 172، 2009 میں 210، 2010 میں 108 اور سال 2011 میں 154 پولیس اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اعدادوشمار کے مطابق 2012 میں 106، 2013 میں 135 اور 2014 میں 111 اہلکار مختلف واقعات میں شہید ہوئے۔ چند برسوں کی نسبتاً کمی کے بعد 2022 میں ایک بار پھر پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں تیزی آئی اور 93 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 197 اور 2024 میں 169 تک جا پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں اب تک 150 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دہشت گردی کے ان حملوں میں نہ صرف کانسٹیبلز بلکہ اعلیٰ افسران بھی نشانہ بنے، جن میں 2 ایڈیشنل آئی جی، 2 ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی، 6 ایس پی، 21 ڈی ایس پی اور 51 انسپکٹرز شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد 1,649 کانسٹیبلز کی ہے۔

واضح رہے کہ صوبے بھر میں اگست کے مہینے میں “یومِ شہدائے پولیس” عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، جس کی مرکزی تقریب پشاور میں منعقد کی جائے گی جہاں ان بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

برطانوی جریدے ‘دی ٹیلی گراف’ کی رپورٹ نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، 34 لاکھ شہریوں کے انخلا، خواتین پر پابندیوں اور انسانی بحران کی سنگین تصویر پیش کر دی ہے۔

August 15, 2026

طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب کے الزامات پر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی پر ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔

August 15, 2026

یومِ آزادی کے موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا، ان کے تجربے کو قیمتی ادارہ جاتی اثاثہ قرار دیا۔

August 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی انٹرویو نے طالبان حکومت کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں سیاسی عدم شمولیت، 20 سالہ عبوری نظام اور پابندیوں پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *