جنوبی وزیرستان کے شہر وانا کی سپر مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں معروف مذہبی رہنما اور قبائلی شخصیت مفتی جان امیر شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مفتی جان امیر خطے میں امن پسند اور حکومت حامی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے اور ایک سرکاری اسکول میں بطور معلم اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ علاقے میں قبائلی اور زمینی تنازعات کو نمٹانے کے لیے مقامی جرگوں میں بھی نہایت فعال اور اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق مفتی جان امیر ماضی میں غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے والے ملا نذیر گروپ کے اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے، جس کے سربراہ ملا نذیر 2013 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
بم دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک