طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ جنرل یاسین ضیا نے نئے افغانستان کا خاکہ پیش کر دیا

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے طالبان کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔

طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ جنرل سمیع سادات کے بعد جنرل یاسین ضیا کا طالبان کی برطرفی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ پر مبنی اہم بیان۔

August 3, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں افغان سکیورٹی فورسز کے سابق اعلیٰ حکام ایک بار پھر تحرک اختیار کرتے ہوئے طالبان مخالف کارروائیوں کو تیز کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق افغان آرمی چیف جنرل یاسین ضیا نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ طالبان کو صرف اقتدار سے ہٹانا ہی کافی نہیں، بلکہ افغانستان میں قانون کی حکمرانی، شفاف انتخابات، مساوی شہریت، خواتین کے حقوق اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کا قیام بھی ناگزیر ہے۔

جنرل یاسین ضیا نے زور دیا کہ افغانستان کا مستقبل صرف حکومت کی تبدیلی سے نہیں، بلکہ ایک ایسے پائیدار سیاسی نظام کے قیام سے وابستہ ہے جو تمام افغان شہریوں کو مساوی حقوق اور انسانی آزادیاں فراہم کرے۔

انہوں نے صوبہ بدخشاں میں ہونے والی حالیہ مسلح کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات اس بات کا کھُلا ثبوت ہیں کہ طالبان کے خلاف اندرونِ افغانستان عوامی اور عسکری مزاحمت کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکا۔

جنرل یاسین ضیا کا یہ سخت مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل افغانستان کے جنرل سمیع سادات کی جانب سے بھی طالبان کے خلاف باقاعدہ مزاحمت اور مسلح تحرک کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔

دونوں سابق فوجی قیادتوں کے بیانات اور شمالی صوبوں میں جاری بڑھتے ہوئے حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد مزید منظم ہو کر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

فریڈم فرنٹ کے سربراہ نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حتمی مقصد ایک ایسا آزاد اور جمہوریت پسند افغانستان ہے جہاں عوام کو اپنی قیادت خود منتخب کرنے کا حق حاصل ہو اور خواتین کے حقوق کی مکمل پاسداری کی جائے۔

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *