افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں افغان سکیورٹی فورسز کے سابق اعلیٰ حکام ایک بار پھر تحرک اختیار کرتے ہوئے طالبان مخالف کارروائیوں کو تیز کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق افغان آرمی چیف جنرل یاسین ضیا نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ طالبان کو صرف اقتدار سے ہٹانا ہی کافی نہیں، بلکہ افغانستان میں قانون کی حکمرانی، شفاف انتخابات، مساوی شہریت، خواتین کے حقوق اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کا قیام بھی ناگزیر ہے۔
جنرل یاسین ضیا نے زور دیا کہ افغانستان کا مستقبل صرف حکومت کی تبدیلی سے نہیں، بلکہ ایک ایسے پائیدار سیاسی نظام کے قیام سے وابستہ ہے جو تمام افغان شہریوں کو مساوی حقوق اور انسانی آزادیاں فراہم کرے۔
انہوں نے صوبہ بدخشاں میں ہونے والی حالیہ مسلح کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات اس بات کا کھُلا ثبوت ہیں کہ طالبان کے خلاف اندرونِ افغانستان عوامی اور عسکری مزاحمت کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکا۔
جنرل یاسین ضیا کا یہ سخت مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل افغانستان کے جنرل سمیع سادات کی جانب سے بھی طالبان کے خلاف باقاعدہ مزاحمت اور مسلح تحرک کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔
دونوں سابق فوجی قیادتوں کے بیانات اور شمالی صوبوں میں جاری بڑھتے ہوئے حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد مزید منظم ہو کر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔
فریڈم فرنٹ کے سربراہ نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حتمی مقصد ایک ایسا آزاد اور جمہوریت پسند افغانستان ہے جہاں عوام کو اپنی قیادت خود منتخب کرنے کا حق حاصل ہو اور خواتین کے حقوق کی مکمل پاسداری کی جائے۔