حکومت نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال نہ مکمل طور پر پرامن ہے اور نہ ہی اتنی سنگین جتنی بعض حلقوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یکطرفہ بیانیہ صوبے میں جاری ترقی، بہتر حکمرانی اور سکیورٹی اقدامات کو نظر انداز کرتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی چیلنجز کے باوجود صوبے میں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل جاری ہیں۔ اس سلسلے میں تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر شفاف بھرتی، سرکاری اسکولوں کی بحالی، صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری اور نوجوانوں کے لیے مختلف فلاحی پروگرامز پر کام ہو رہا ہے۔
دور دراز علاقوں میں ریاستی عملداری، عوامی خدمات کی فراہمی اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے نئی ڈویژنز اور انتظامی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے چیلنج کی علاقائی نوعیت بھی ہے، جہاں عسکریت پسند گروہ بیرونی معاونت، دشوار گزار جغرافیے اور طویل سرحدوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے باوجود سکیورٹی فورسز شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت نے اپنی پالیسی دوٹوک انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں، نوجوانوں اور مقامی قیادت سے آئینی و جمہوری دائرہ کار میں مذاکرات کی حمایت کی جاتی ہے، تاہم مسلح تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ صوبے میں پائیدار امن کے لیے قومی یکجہتی، سیاسی اتفاقِ رائے، شفاف طرزِ حکمرانی، منفی پراپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ اور پائیدار معاشی ترقی ناگزیر ہے۔
دیکھیے: لکی مروت آپریشن: فتنۃ الخوارج کو بھاری نقصان، اسلحہ برآمد