سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے میں 17 افراد شہید ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایک افغان فتنہ الخوارج دہشت گرد نے کیا تھا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق شہید ہونے والوں میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں، جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے 12 افراد زیرِ علاج ہیں۔
حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے ملوث دہشت گرد صبغت اللہ عرف ابو دجانہ کو ہلاک کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور حملہ آوروں کو کٹہرے تک پہنچانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان شہری کی حملے میں شمولیت سرحد پار سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے مسلسل خطرے کو ظاہر کرتی ہے، جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام نے پولیس اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کو انسانیت اور اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ ان کے مطابق پولیس تنصیب پر حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ نیز، سات پولیس اہلکاروں کی شہادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا۔
حکام کے مطابق فوری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے دہشت گرد کی ہلاکت پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سرچ، کلیئرنس اور فرانزک کارروائیوں کا فوری آغاز سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام کے مطابق سوات کے عوام دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ متحد ہیں اور امن و قومی سلامتی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
دیکھیے: لکی مروت میں خوارج کو بڑا دھچکا، آپریشن 11 گرج میں اہم کمانڈرز ہلاک