سکیورٹی فورسز نے آپریشن 11 گرج کے تحت ضلع لکی مروت میں ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں تین خوارج دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں اہم کمانڈر شاکر عرف ملنگ آشنا اور حارث عرف ضرار بھی شامل ہیں۔ زمینی کارروائی اور مؤثر فضائی معاونت کے امتزاج سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، جس سے خوارج کے کمانڈ اور آپریشنل نیٹ ورک کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اہم کمانڈروں کی ہلاکت سے خوارج کے کمانڈ ڈھانچے اور آپریشنل منصوبہ بندی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز اعلیٰ قدر کے دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنانے میں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زمینی دستوں اور فضائی وسائل کے مربوط استعمال نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی جدید اور مؤثر آپریشنل صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔ خوارج کے ٹھکانوں کی تباہی سے ان کی محفوظ پناہ گاہیں، رسد کا نظام اور آپریشنل ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری مسلسل کارروائیاں خوارج کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو محدود بنا رہی ہیں۔ پاکستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ہر دہشت گرد، کمانڈر اور سہولت کار مسلسل سیکیورٹی فورسز کی زد میں ہے۔
حکام کے مطابق مسلسل کارروائیوں سے خوارج کی بھرتی، باہمی رابطوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز آپریشنل برتری برقرار رکھتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دے رہیں۔
آپریشن 11 گرج اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے خوارج کے ہر باقی ماندہ نیٹ ورک کے خاتمے کے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
دیکھیے: تیرہ واقعہ: خوارج کی مذہبی جذبات بھڑکانے کی پراپیگنڈا مہم ناکام