خیبر پختونخوا کا خوبصورت اور برف پوش پہاڑوں سے گھرا ضلع شانگلہ، جس کا شمار صوبے کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے، آج ایک بار پھر سوگوار ہے۔ یہ ماتم کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ اس معاشی ناانصافی اور حکومتی بے حسی کا ہے جو روزانہ نہ جانے کتنے روشن چراغوں کو گل کر دیتی ہے۔ میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان ہوا تو بورڈ کی فہرست میں ایک نام چمک رہا تھا، ابو سفیان، جس نے 1100 میں سے 865 ممتاز نمبر حاصل کر کے اپنی قابلیت اور محنت کا لوہا منوایا تھا۔ لیکن افسوس، یہ ہونہار طالب علم اپنی اس شاندار کامیابی پر ملنے والی مبارکبادیں سننے اور اپنے روشن مستقبل کے خواب دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود نہ تھا۔
غربت اور گھر کے حالات نے اس کم سن اور معصوم بچے کو دسویں کے امتحانات کا آخری پرچہ دیتے ہی کتابیں قلمدان میں بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جہاں دوسرے بچے امتحانات کے بعد چھٹیاں مناتے ہیں اور کالجوں میں داخلے کے سپنے دیکھتے ہیں، وہاں ابو سفیان کو اپنے پریشان حال گھرانے کا پیٹ پالنے کے لیے بلوچستان کے تپتے اور ویران صحراؤں کا رخ کرنا پڑا۔ وہ کوئٹہ کی تاریک اور دم گھٹنے والی کوئلہ کان میں اترا، اور پھر وہاں پیش آنے والے ایک المناک حادثے میں ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے جا سویا۔
یہ واقعہ محض ایک انفرادی حادثہ یا اتفاقی موت نہیں ہے، بلکہ یہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت، اس کے تعلیمی و معاشی ڈھانچے اور نام نہاد گڈ گورننس کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ یہ المناک واقعہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کے پی کی سرزمین ایک طویل عرصے سے ایک ایسی قیادت کے زیرِ اثر ہے، جس کی ترجیحات میں عوام کی بنیادی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار کی فراہمی کبھی شامل ہی نہیں رہی۔
کوئلہ کان اور سوالیہ نشان
یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر شانگلہ یا اس کے ارد گرد کے اضلاع میں روزگار، تکنیکی تعلیم اور روزمرہ کی زندگی کے معقول وسائل میسر ہوتے، تو کیا ایک 16 سالہ ہونہار بچے کو کتابیں چھوڑ کر کوئلہ کان کی گہرائیوں میں اترنا پڑتا؟ بلوچستان کے صحراؤں اور خطرناک کانوں کا سفر، جہاں قد آور، پکی عمر اور تجربہ کار مزدور بھی دیہاڑی کمانے کی خاطر موت سے شرط لگا کر اترتے ہیں، وہاں ایک معصوم اور ذکی طالب علم کو کس چیز نے دھکیلا؟ وہ صرف اور صرف ایک ہی عفریت تھا اور اس کا نام ہے بے روزگاری اور فاقہ کشی۔
اگر صوبائی حکومت کے پاس عوام کے لیے کوئی واضح پالیسی ہوتی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہوتے تو ابو سفیان کو سینکڑوں میل دور جا کر اپنی جان کا نذرانہ نہ دینا پڑتا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے بڑے اور دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد بھی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کے درباری وزراء کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ کسی نے اس غریب خاندان کی دادرسی کی اور نہ ہی صوبے میں پھیلی اس خوفناک بے روزگاری پر کوئی ماتم کیا۔
ترجیحات کا تضاد
حکمرانوں کی ترجیحات اور بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی دو روز قبل کی ہی بات ہے، پشاور کے نشتر ہال میں ایک تقریب کے دوران صوبائی وزیراعلیٰ کو شدید گرمی اور حبس کے باعث پسینہ آ گیا۔ وزیراعلیٰ اور ان کے ساتھ موجود پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے اس معمولی پسینے کی قیمت اتنی گراں طے کی گئی کہ فوراً سے پہلے کارروائی کرتے ہوئے تین ملازمین کو معطل و برطرف کر دیا گیا۔
یہ کتنا بڑا المیہ اور تاریخی تضاد ہے کہ جہاں ایک صوبائی وزیر یا حکمران جماعت کے رہنما کے پسینے پر تین غریب ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے جاتے ہیں اور انہیں فقر و فاقہ کی دھکیل دیا جاتا ہے، وہاں دوسری جانب قوم کے معمار، ملک کے مستقبل اور 865 نمبر لینے والے ہونہار بچے کی دردناک موت پر نہ کسی کی معطلی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کے ضمیر میں ندامت کی کوئی لہر دوڑتی ہے۔ ایک طرف حکمران کا پسینہ بیش قیمت ہے اور دوسری طرف غریب طالب علم کا خون سستا اور بے وقعت۔
اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ بحران صرف دور افتادہ اضلاع جیسے شانگلہ تک محدود ہے، تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ شانگلہ کو تو ایک طرف رکھیے، صوبائی دارالحکومت پشاور کی در و دیوار، شاندار عمارتیں اور خستہ حال سڑکیں خود اپنی حالتِ زار پر ماتم کناں ہیں۔ پشاور کی گلیوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، ایم اے اور بی ایس پاس نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مگر انہیں معقول روزگار میسر نہیں۔
تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر کا برا حال ہے۔ میٹرک کے بعد ابو سفیان جیسے ہزاروں طلبہ آگے پڑھنا چاہتے ہیں، مگر غربت ان کے راستے کی دیوار بن جاتی ہے۔ جس صوبے کے باشندوں کو طویل اور بے رحم لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہو، جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی کو ترستا ہو، وہ اپنے بچوں کو آگے کی اعلیٰ تعلیم دلائے تو کیسے؟
گڈ گورننس؟
صوبے میں تعلیم کا معیار کس حد تک گر چکا ہے، اس کا اندازہ حال ہی میں سامنے آنے والے میٹرک کے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں صرف ایک مضمون اسلامیات میں دس ہزار سے زائد طلبہ فیل ہو گئے۔ یہ رقم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبے میں تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، نصاب کی ابتری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے تعلیمی ماحول کو بالکل زہر آلود کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں والدین اگر اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے بھی ہیں تو کیا سوچ کر بھیجیں؟ جہاں نہ معیاری تعلیم ہے، نہ تربیت اور نہ ہی پڑھنے کے بعد روزگار کا کوئی مستقبل۔
جب صوبے میں روزگار کی کوئی ضمانت نہیں، تعلیم کا جنازہ نکل چکا ہے، بجلی کی فراہمی ناپید ہے اور امن و امان کی صورتحال روز بروز ابتر ہو رہی ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران کس بات پر گڈ گورننس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر دعوؤں کی بوچھاڑ اور پریس کانفرنسوں میں لفاظی سے حقائق کو بدلا نہیں جا سکتا۔
ابو سفیان کا ادھورا خواب اور اس کی کوئلہ کان میں المناک شہادت خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور ترجیحات پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا گواہ ہے کہ جب تک ریاست اپنے ہونہار بچوں کو قلم کے بدلے مزدوری اور کتابوں کے بدلے کوئلہ کانوں میں بھیجتی رہے گی، تب تک گڈ گورننس کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے معنی ہی رہیں گے۔