افغانستان کے شہر ہرات میں 9 اگست کو طالبان انتظامیہ نے یوناما کے دو افغان ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔ کے حکام کے مطابق طالبان کی جانب سے تاحال گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی زیرِ حراست ملازمین تک ادارے کی رسائی ممکن بنائی گئی ہے۔
اقوام متحدہ نے واقعے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدو ں کے تحت اقوام متحدہ اور اس کے اہلکاروں کو حاصل استثنیٰ اور مراعات کا احترام کریں۔ تاہم طالبان کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی سرکاری موقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ پیش رفت طالبان کے اس موقف پر سوالات قائم کرتی ہے جس میں وہ خود کو ایک شورش پسند تحریک کے بجائے ذمہ دار حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اقتدار پر قبضے کے بعد سے طالبان کے زیرِ انتظام اداروں پر شہریوں کے تحفظ کے بجائے من مانی گرفتاریوں اور جبر و تشدد کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ماضی کی رپورٹس بھی طالبان کے دورِ حکومت میں غیر قانونی حراستوں، جبری گمشدگیوں اور نا انصافی کو دستاویزی شکل میں پیش کر چکی ہیں۔ عالمی ادارے کے نمائندوں کی ہرات میں بلاجواز گرفتاری کو اسی سلسلہ وار پالیسی کی ایک تازہ کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی ادارے کے ساتھ شفافیت سے گریز کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران نظم قانون اور عالمی ضوابط کی پاسداری سے قاصر ہے۔ پانچ برس گزرنے کے باوجود ریاستی ڈھانچے کو خوف اور عدم جوابدہی کے اصولوں پر چلایا جا رہا ہے۔
عالمی برادری اور بالخصوص مغربی ممالک کے لیے یہ واقعہ ایک واضح اشارہ ہے کہ طالبان کا طرزِ عمل ہنوز کسی متوازن ریاستی نظم کے مطابق نہیں۔ نقادوں کا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کے عملے کی گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر اس رویے پر محض مذاکرات کے بجائے سخت اور عملی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دیکھیے: پانچ سال بعد بھی طالبان کی حکمرانی میں عسکری ڈھانچہ برقرار: یوناما رپورٹ