اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان نے اگست 2026 میں جاری کردہ اپنی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان اگست 2021 میں اقتدار حاصل کرنے کے پانچ سال بعد بھی ایک مسلح جتھے سے باضابطہ، آئینی اور جواب دہ حکمرانی کی طرف مکمل منتقلی میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے سابقہ آئینی و قانونی نظام، تعزیراتی کوڈ اور تشدد کی روک تھام کے قوانین کو معطل کر کے اپنے احکامات اور شریعت پر مبنی قوانین نافذ کیے، تاہم سکیورٹی اداروں کے رویوں اور ان کے احتسابی نظام میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔
یوناما کی دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے سابق جنگجوؤں کو پولیس، انٹیلی جنس، فوج اور جیل خانوں سمیت تمام ریاستی اداروں میں شامل کیا گیا، جس کی وجہ سے مسلح تحریک کے اہلکار، کمانڈ ڈھانچہ اور نظریاتی طرزِ عمل ریاستی مشینری کا مستقل حصہ بن گئے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں روایتی آئینی بنیادوں پر نظام قائم کرنے کے بجائے تمام تر اختیارات طالبان کی مرکزی قیادت اور امیر کے احکامات کے تحت ایک انتہائی مرکزیت پسند ڈھانچے میں محدود کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں طالبان کے قانون کی حکمرانی اور احتساب کے دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ، استخبارات اور محکمۂ جیل خانہ جات کے اندر داخلی نگرانی کے شعبے اور صفائی و تصفیہ کمیشن جیسے ادارے موجود ہونے کے باوجود شفافیت کا شدید فقدان ہے۔ طالبان اہلکاروں کی خلاف ورزیوں پر ملٹری کورٹس کے ذریعے کی جانے والی کارروائیوں اور سزاؤں کے اعداد و شمار عام نہیں کیے جاتے، جبکہ شکایت کنندگان کو دباؤ، خوف اور عدم اعتماد کے باعث انصاف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عالمی ادارے نے رپورٹ کے اختتام پر طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق واضح ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے اور اہلکاروں کی بدسلوکی و ان کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائیوں کی تفصیلات باقاعدگی سے عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ نظام میں شفافیت قائم ہو سکے۔
دیکھیے: قندھار سے ننگرہار تک کارروائیاں، طالبان مخالف عسکری مزاحمت میں شدید اضافہ