پاکستان نے مقبوضہ شامی جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کولمبیا، امریکہ کے بعد اقوام متحدہ کا دوسرا رکن ملک بن گیا ہے جس نے شامی علاقے پر اسرائیلی تسلط کو یکطرفہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق جولان کی پہاڑیاں بدستور مقبوضہ شامی علاقہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی یکطرفہ اقدام ان کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
پاکستان نے اس موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان پر اسرائیلی قوانین، دائرۂ اختیار اور انتظامیہ کا نفاذ مکمل طور پر کالعدم اور بے اثر ہے۔
اسلام آباد نے واضح کیا کہ ریاستوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی قبضے کو جائز قرار دینے کی کوششوں کو عالمی سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے۔ اس قسم کے یکطرفہ فیصلوں سے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور جواب دہی کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔
مؤقف میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل مقبوضہ فلسطینی اور شامی گولان کی پہاڑیوں سمیت تمام عرب علاقوں سے مکمل انخلا اختیار نہیں کر لیتا۔
دیکھیے: باب المندب میں حوثیوں کا سعودی جہاز پر حملہ، 3 افراد جاں بحق