طالبان حکومت کی جانب سے خفیہ اقدام کے تحت ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سے تعلق رکھنے والے 70 غیر ملکی ایغور جنگجوؤں کو درجنوں ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویز نے طالبان کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
دستاویز کے مطابق طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے آپریشنز ڈپٹی ڈائریکٹوریٹ کی ہدایت پر بغلان کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے بدخشاں کے انٹیلی جنس حکام کو خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں ان غیر ملکی جنگجوؤں کو مسلم ایغور مجاہدین کا نام دیا گیا ہے۔
لیک ہونے والی ہدایات میں بدخشاں کے طالبان انٹیلی جنس حکام کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ ان جنگجوؤں کی علاقے میں تعیناتی، نقل و حرکت اور موجودگی کو ہر صورت میں مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے تاکہ عالمی سطح پر کوئی ردِعمل سامنے نہ آئے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں سے بدخشاں اور ملحقہ علاقوں میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان مقامی سطح پر اٹھنے والی مزاحمت کو دبانے اور اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے ان غیر ملکی جنگجوؤں کا سہارا لے رہے ہیں۔
دیکھیے: طالبان کا جبر جاری: یوناما کے 2 افغان اہلکار بلاوجہ گرفتار