افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان فورسز اور انہی کے منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں کے درمیان شروع ہونے والی مسلح پیش قدمی مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے۔ اس پیش رفت نے طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات، دھڑے بندی اور اقتدار پر کمزور ہوتی گرفت کو بالکل عیاں کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے شاخی اور نسی اضلاع میں فضائی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ہیلی کاپٹر مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ نسی ضلع کے مرکز کے قریب جیسنگ کے علاقے میں جمعہ خان فتح کے ٹھکانوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
افغانستان بھر میں مکمل امن اور کنٹرول کا دعویٰ کرنے والی طالبان حکومت کو اپنے ہی سابقہ ارکان سے نمٹنے کے لیے اب فضائی طاقت اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ طاقت کے ذریعے مقامی ڈھانچے کو کنٹرول کرنے کی یہ کوششیں حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خونریز تصادم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
داخلی سکیورٹی بحران
بدخشاں اب محض ایک عام سکیورٹی مسئلہ نہیں رہا بلکہ طالبان کی داخلی تقسیم کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ مسلح مزاحمت، مقامی آبادی کی بے چینی اور طالبان کی اضافی فوجی تعیناتی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان کا استحکام اور مکمل کنٹرول کا بیانیہ شدید بحران کا شکار ہے۔
دیکھیے: افغانستان: طالبان کو مختلف صوبوں میں بیک وقت مزاحمت کا سامنا