پنجشیر کے ضلع خِنج کے علاقے برجمَن میں 11 اگست کو افغانستان فریڈم فرنٹ نے طالبان اہلکاروں کو لے جانے والی ایک رینجر گاڑی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کا ایک رکن ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں طالبان کی رینجر گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
واضح رہے کہ پنجشیر میں ماضی میں بھی طالبان مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تازہ واقعہ بھی صوبے میں جاری سکیورٹی کشیدگی اور طالبان مخالف کارروائیوں کے تسلسل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
بدخشاں میں شدید جھڑپیں
دوسری جانب افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع نُسَے میں طالبان اور جمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں طالبان کے 5 ارکان ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے، جبکہ 5 دیگر لاپتا ہیں۔
طالبان حکام کے مطابق نُسَے میں منگل کی سہ پہر شروع ہونے والی جھڑپیں بدھ کی دوپہر سے قبل مزید شدت اختیار کر گئیں۔ علاقے میں طالبان کا ایک ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتا دیکھا گیا، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے علاقے میں حالات پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود کشیدگی میں کمی نہیں آسکی، بلکہ بعض مقامات پر صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ جمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان جاری لڑائی نے بدخشاں میں طالبان کو درپیش داخلی سکیورٹی چیلنجز میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم جھڑپوں میں مخالف گروپ کے جانی نقصان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بدخشاں میں جمعہ خان فتح نے طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے ہونے والی جھڑپوں میں کئی طالبان اہلکار ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔
یہ دونوں واقعات افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے اور طالبان حکومت کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔