افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف مزاحمت کو محدود گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر ایک وسیع سیاسی اور منظم تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا، جو طالبان کے بعد افغانستان کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کر سکے۔
طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے سے قبل یاسین ضیا نے تسلیم کیا کہ محدود مسلح کارروائیاں اب تک ملک میں طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کر سکیں۔ ان کے مطابق مزاحمتی قوتوں کو اپنا سماجی دائرہ وسیع کرنے، تنظیمی اتحاد مضبوط بنانے اور خود کو ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
جنرل یاسین ضیا نے طالبان حکومت کو مسلح اور غیر جواب دہ نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے سیاسی تبدیلی کے پُرامن راستے بند کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین اور مختلف سیاسی گروہوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھنے کے ساتھ سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھی دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت کا مقصد صرف طالبان حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک قانونی، منتخب اور جامع سیاسی نظام کا قیام ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں انتقام، افراتفری اور ریاستی اداروں کے دوبارہ انہدام سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
مزاحمت کی نوعیت
بدخشان کے ضلع زیباک میں حالیہ جھڑپوں کے بعد اے ایف ایف کی کارروائیاں بھی توجہ کا مرکز بنی ہیں۔ یاسین ضیا کے مطابق ان جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمت محدود اور اچانک حملوں سے آگے بڑھ کر نسبتاً منظم اور مسلسل کارروائیوں کی جانب جا سکتی ہے۔
انہوں نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھی مزاحمتی تحریک کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ ان کے پاس عسکری تجربے، مقامی روابط اور تنظیمی صلاحیت موجود ہے۔
طالبان کے دعوے؟
یاسین ضیا کا مؤقف طالبان کے اس دعوے کو چیلنج کرتا ہے کہ افغانستان میں مکمل استحکام قائم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق طالبان کے خلاف مزاحمت کی کامیابی صرف عسکری دباؤ سے ممکن نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی ڈھانچے کی تشکیل ضروری ہے، جو اقتدار کی پُرامن منتقلی اور افغانستان کو دوبارہ مسلح تصادم اور ادارہ جاتی بحران کی طرف جانے سے روک سکے۔
دیکھیے: جمعہ خان کے اعلانِ جنگ کے بعد بدخشاں میدانِ جنگ بن گیا: طالبان کے 25 اہلکار ہلاک