افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں مسلح مزاحمت، طالبان کے اندرونی اختلافات اور بڑھتی ہوئی مقامی بے چینی نے طالبان حکومت کی اقتدار پر گرفت کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ منحرف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی جانب سے طالبان فورسز کے خلاف کھلی جنگ کے اعلان کے بعد علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔
درواز میں خونریز جھڑپیں
اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران درواز میں جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں اور طالبان فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان پرتشدد تصادمات کے نتیجے میں 25 سے زائد طالبان ارکان کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جسے اقتدار میں طالبان کی واپسی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
ہنگامی امداد اور فضائی کمک
طالبان کی کمزور ہوتی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان حکومت کو اضافی کمک کے لیے ہیلی کاپٹروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ طالبان انتظامیہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے درواز میں مسلسل تازہ نفری اور جدید فوجی سازوسامان منتقل کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب جمعہ خان فتح کے جنگجو بھی مزید آگے بڑھنے اور طویل لڑائی کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔
طاقت کا استعمال
یہ نیا تصادم اس وقت شروع ہوا جب طالبان نے جمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے اور مقامی طاقت کے ڈھانچے پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، زبردستی کے ان اقدامات نے اندرونی اختلافات ختم کرنے کے بجائے مقامی ناراضی کو ایک منظم اور مسلح مزاحمت میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جبری طاقت سے وفاداری حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔
حکومتی بیانیے اور زمینی حقائق
بدخشاں میں جاری یہ بحران طالبان کے اس باضابطہ بیانیے کی نفی کرتا ہے جس میں ملک بھر پر مکمل سیکیورٹی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ طالبان اہلکاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملنے والی کمک اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کا ملک گیر استحکام کا دعویٰ بدخشاں میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔
دیکھیے: بدخشاں میں طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ، جمعہ خان نے مزاحمت کی کال دے دی