خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

جمعہ خان کے اعلان کے بعد بدخشاں میدانِ جنگ بن گیا: طالبان کے 25 اہلکار ہلاک

بدخشاں میں منحرف کمانڈر کی مسلح مزاحمت اور 25 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت نے طالبان حکومت کے لیے سنگین داخلی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
بدخشاں میدانِ جنگ بن گیا: منحرف کمانڈر کی بغاوت، 25 اہلکار ہلاک

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان اور منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں۔ 25 سے زائد ہلاکتیں اور ہیلی کاپٹروں سے کمک روانہ۔

August 13, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں مسلح مزاحمت، طالبان کے اندرونی اختلافات اور بڑھتی ہوئی مقامی بے چینی نے طالبان حکومت کی اقتدار پر گرفت کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ منحرف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی جانب سے طالبان فورسز کے خلاف کھلی جنگ کے اعلان کے بعد علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔

درواز میں خونریز جھڑپیں

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران درواز میں جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں اور طالبان فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان پرتشدد تصادمات کے نتیجے میں 25 سے زائد طالبان ارکان کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جسے اقتدار میں طالبان کی واپسی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

ہنگامی امداد اور فضائی کمک

طالبان کی کمزور ہوتی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان حکومت کو اضافی کمک کے لیے ہیلی کاپٹروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ طالبان انتظامیہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے درواز میں مسلسل تازہ نفری اور جدید فوجی سازوسامان منتقل کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب جمعہ خان فتح کے جنگجو بھی مزید آگے بڑھنے اور طویل لڑائی کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔

طاقت کا استعمال

یہ نیا تصادم اس وقت شروع ہوا جب طالبان نے جمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے اور مقامی طاقت کے ڈھانچے پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، زبردستی کے ان اقدامات نے اندرونی اختلافات ختم کرنے کے بجائے مقامی ناراضی کو ایک منظم اور مسلح مزاحمت میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جبری طاقت سے وفاداری حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔

حکومتی بیانیے اور زمینی حقائق

بدخشاں میں جاری یہ بحران طالبان کے اس باضابطہ بیانیے کی نفی کرتا ہے جس میں ملک بھر پر مکمل سیکیورٹی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ طالبان اہلکاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملنے والی کمک اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کا ملک گیر استحکام کا دعویٰ بدخشاں میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔

دیکھیے: بدخشاں میں طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ، جمعہ خان نے مزاحمت کی کال دے دی

متعلقہ مضامین

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *