نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: ایران کو مکمل طور پر شکست دینے کے بعد، جو کہ بری طرح شکست کھا رہا ہے، جلد ہی میں آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے جا رہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عملی طور پر امریکہ پہلے ہی اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھتا ہے، کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے کوئی بھی جہاز اس وقت تک وہاں سے نہیں گزر سکتا جب تک امریکہ اجازت نہ دے۔ ٹرمپ نے اس ناکہ بندی کو سٹیل کی دیوار قرار دیا۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع اہم بحری راستہ ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے اس آبی راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ کا کوئی دائرہ اختیار نہیں، اور صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہ اس اہم گزرگاہ کو عملی طور پر امریکی علاقہ کیسے قرار دیں گے۔
ایران کا سخت ردعمل
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز نہ ٹویٹ سے قبضے میں آ سکتا ہے، نہ طیارہ بردار بحری جہاز سے، نہ کسی حکم نامے سے اور نہ ہی انتخابی تقریر سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ دھمکیوں سے خوفزدہ ہوتا ہے اور نہ طاقت کے مظاہرے کے سامنے جھکتا ہے، اور یہ کہ آبنائے ہرمز “ایرانی تھا، ایرانی ہے اور ایرانی ہی رہے گا۔”
سخت ترین اقتصادی پابندیاں
دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ ہفتے ایران کے خلاف ایسے اقتصادی اقدامات کا اعلان کرے گی جو “اقتصادی تنہائی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔”
بیسنٹ کے مطابق یہ نئی پابندیاں بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر ایک “ون-ٹو پنچ” حکمتِ عملی کا حصہ ہوں گی، جس کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھلوانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر وزارتِ خزانہ ایرانی بینک اکاؤنٹس، کرپٹو والٹس اور بیرونِ ملک اثاثوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ حکومت اور اس کے پراکسیز تک رقوم کی ترسیل روکی جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق موجودہ بحری ناکہ بندی تہران کو تیل کی آمدنی میں پہلے ہی تقریباً 4.8 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہے۔
چھ ماہ سے جاری جنگ
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی فروری 2026 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت محدود کر دی، جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی۔ جنگ بندی کے لیے کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں، اور فریقین کے درمیان بحری راستے کی بحالی ایک بڑا نکتہ اختلاف بنی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تازہ بیان اور متوقع نئی امریکی پابندیوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی زیر اثر آ سکتی ہیں۔