معروف پوڈکاسٹ کے دوران دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں احمد العربی اور سلمان جاوید نے تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں پاکستان میں سرگرم رہنے والی ہر دہشت گرد لہر کو بھارتی پشت پناہی اور افغان سرزمین کا تعاون حاصل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیوں کے لیے بھارت افغان سرزمین کے بغیر مکمل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ ماضی میں سابق سوویت یونین کی حکمتِ عملی بھی اسی طرح کی سہولت کاری پر منحصر رہی، اور ہر دور میں دہشت گردی کو تقویت افغان سرحد کے راستے ہی ملی۔
احمد العربی اور سلمان جاوید نے نشاندہی کی کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے اسلام آباد نے ہمیشہ مسلم امہ کے مفادات، انڈونیشیا و فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت اور ملینز افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔ اس کے برعکس افغان حکمرانوں اور بیرونی قوتوں نے مسلسل افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔
تجزیے میں واضح کیا گیا کہ پاکستان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا ہر سرا بیرونی فنڈنگ، بھارتی سرپرستی اور افغان حدود سے ملنے والی سہولت کاری سے جا ملتا ہے۔ افغان سرزمین کا بطور لانچنگ پیڈ اور محفوظ پناہ گاہ استعمال ہونا خطے میں دیرپا امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔