انڈونیشیا، مصر، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ امریکی روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔
یہ ردعمل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 15 نکاتی امن دستاویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوتی، انخلا نہیں کیا جائے گا۔
آٹھ ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت جامع امن منصوبے کی براہِ راست نفی ہے اور یہ غزہ میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مشترکہ مؤقف کے مطابق روڈ میپ مسترد کرنا امن کی راہ میں رکاوٹ کی ذمہ داری براہِ راست اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اس روڈ میپ میں ہتھیاروں کی تلفی، اسرائیلی انخلا، بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، غزہ کی انتظامی اتھارٹی کی منتقلی اور تعمیرِ نو کا مکمل فریم ورک شامل ہے۔
ممالک نے خبردار کیا ہے کہ روڈ میپ پر عمل درآمد میں مزید تاخیر یا عدم تعاون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر اسرائیل پر ہوگی۔
بیان میں فلسطینی ریاست کے قیام کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے روکنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ ممالک نے واضح کیا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔
مشترکہ بیان میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
دیکھیے: ساٹھ روزہ ڈیڈ لائن ختم: ٹرمپ کا ایرانی معاہدے میں توسیع سے صاف انکار