پاکستان نے شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

August 19, 2026

سیکیورٹی فورسز نے ضلع وزیرستان میں کامیابی سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کے اہم اور مطلوب دہشت گرد خارجی عبداللہ کو جہنم واصل کر دیا۔

August 19, 2026

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف نظرِ ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔

August 19, 2026

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں افغان خواتین اور بچیوں پر جنسی زیادتی، اجتماعی ریپ، جبری برہنگی اور تشدد کے خوفناک حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے عالمی برادری کے کردار پر سوال اٹھا دیا ہے۔

August 19, 2026

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کر دی ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی سمیت 20 دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ گاہ بنی ہوئی ہے۔

August 19, 2026

سی ٹی ڈی نے ڈیفنس میں یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کر کے شہری کو قتل کرنے والے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دستی بم اور پستول برآمد کر لیے۔

August 19, 2026

طالبان کا دعویٰ بے نقاب، افغانستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں اب بھی سرگرم

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کر دی ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی سمیت 20 دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ گاہ بنی ہوئی ہے۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں برقرار

اقوام متحدہ: افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 عسکریت پسند گروہ سرگرم۔ افغان سرزمین سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر پاکستان کا مؤقف درست ثابت۔

August 19, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں کم از کم 20 دہشت گرد تنظیمیں مسلسل فعال ہیں اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے روزِ اول سے قائم پاکستان کے اس واضحمؤقف کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کا گڑھ اور آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ عالمی حقیقت بیان کرتا رہا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی سرپرستی کے باعث خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات اور بدامنی کا سلسلہ جاری ہے۔

یو این رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کی فعال سرپرستی کر رہی ہے اور ان کے جنگجوؤں کو ماہانہ مالی ادائیگیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک سے روابط قائم ہیں، جبکہ طالبان انٹیلی جنس ان تمام گروہوں کے ساتھ انتظامی تعلقات دیکھتی ہے اور بعض عناصر کو افغان پاسپورٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پابندیوں کا شکار 59 طالبان شخصیات افغان حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ داعش خراسان کے تقریباً 2 ہزار جنگجو بھی وہاں موجود ہیں۔ طالبان کے انہی رویوں اور سرحد پار حمایت کی وجہ سے پاکستان کے سرحدی اضلاع اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ان انکشافات نے طالبان کے تمام انسدادِ دہشت گردی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے ذریعے خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر حصوں میں بدامنی پھیلانے کا سلسلہ نہ صرف علاقائی پائیداری بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

August 19, 2026

سیکیورٹی فورسز نے ضلع وزیرستان میں کامیابی سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کے اہم اور مطلوب دہشت گرد خارجی عبداللہ کو جہنم واصل کر دیا۔

August 19, 2026

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف نظرِ ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔

August 19, 2026

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں افغان خواتین اور بچیوں پر جنسی زیادتی، اجتماعی ریپ، جبری برہنگی اور تشدد کے خوفناک حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے عالمی برادری کے کردار پر سوال اٹھا دیا ہے۔

August 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *