اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں کم از کم 20 دہشت گرد تنظیمیں مسلسل فعال ہیں اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے روزِ اول سے قائم پاکستان کے اس واضحمؤقف کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کا گڑھ اور آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ عالمی حقیقت بیان کرتا رہا ہے کہ افغانستان سے ملنے والی سرپرستی کے باعث خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات اور بدامنی کا سلسلہ جاری ہے۔
یو این رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کی فعال سرپرستی کر رہی ہے اور ان کے جنگجوؤں کو ماہانہ مالی ادائیگیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک سے روابط قائم ہیں، جبکہ طالبان انٹیلی جنس ان تمام گروہوں کے ساتھ انتظامی تعلقات دیکھتی ہے اور بعض عناصر کو افغان پاسپورٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پابندیوں کا شکار 59 طالبان شخصیات افغان حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ داعش خراسان کے تقریباً 2 ہزار جنگجو بھی وہاں موجود ہیں۔ طالبان کے انہی رویوں اور سرحد پار حمایت کی وجہ سے پاکستان کے سرحدی اضلاع اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ان انکشافات نے طالبان کے تمام انسدادِ دہشت گردی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے ذریعے خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر حصوں میں بدامنی پھیلانے کا سلسلہ نہ صرف علاقائی پائیداری بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔