"> افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں برقرار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ: افغانستان دہشت گردی کا لانچنگ پیڈ بن گیا

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا لانچنگ پیڈ قرار دیتے ہوئے ان کے باہمی روابط اور سرحد پار خطرات کی تصدیق کر دی ہے۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں برقرار

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ اور لانچنگ پیڈ قرار دیا گیا۔ القاعدہ، داعش اور بی ایل اے کے روابط پر عالمی تشویش۔

August 19, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ نے افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کے مضبوط ہوتے نیٹ ورکس اور ان کی عملی صلاحیتوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ اور سرحد پار حملوں کے لیے ایک فعال ‘لانچنگ پیڈ’ بن چکا ہے۔

افغانستان سے ابھرتا علاقائی خطرہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ سے پاکستان کے ان خدشات کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق ہو گئی ہے کہ افغان سرزمین سے پنپنے والی دہشت گردی محض ایک ملکی نہیں بلکہ علاقائی مسئلہ ہے۔ 2021 کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والا سیکیورٹی خلا اب تک پُر نہیں ہو سکا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکریت پسند گروہ منظم ہو رہے ہیں۔

داعش خراسان کے خلاف دعوے

طالبان حکومت داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن عالمی ادارے کی رپورٹ ایک پیچیدہ صورتِ حال کی نشاندہی کرتی ہے۔ کسی ایک گروہ کے خلاف کارروائی اس وقت تک بے اثر رہے گی جب تک دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت اور بھرتی کی اجازت میسر رہے گی۔

داعش خراسان اور بی ایل اے کے ممکنہ روابط

رپورٹ میں داعش خراسان، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر متداخل نیٹ ورکس کے درمیان ممکنہ سہولت کاری اور روابط پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف نظریات رکھنے والے گروہوں کا ایک ہی جغرافیائی خطے میں باہمی تعاون ایک نئے اور زیادہ خطرناک سیکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔

بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر عالمی پابندیوں کی ضرورت

اسی تناظر میں پاکستان اور چین کی جانب سے بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام میں شامل کرنے کی کوششیں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ہر اس تنظیم کا یکساں احتساب ضروری ہے جو شہریوں اور علاقائی سلامتی کو نشانہ بناتی ہے۔

القاعدہ کی موجودگی اور دوحہ معاہدے پر سوالات

افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی دوحہ معاہدے کے تحت طالبان کے ان داؤوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے جن میں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی گئی تھی۔ واشنگٹن اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ القاعدہ کے نیٹ ورکس افغان سرحدوں کے اندر مسلسل متحرک ہیں۔

طالبان حکومت کے لیے کڑا امتحان

اقوام متحدہ کی یہ جائزہ رپورٹ عالمی برادری سمیت طالبان حکومت کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ طالبان اگر عالمی قبولیت اور سفارتی روابط کے خواش مند ہیں تو انہیں محض بیانات کے بجائے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے، مالیاتی نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کے خلاف قابلِ تصدیق عملی اقدامات پیش کرنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *