افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے جہاں آزادیٔ اظہار، تعلیم اور روزگار کی بندشوں نے عام افغان شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے، وہیں حراستی مراکز سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ثابت کر دیا ہے کہ وہاں خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت معتبر بین الاقوامی تحقیقی جرائد کی دستاویزات نے ایک ایسا تاریک سچ سامنے لایا ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ کابل سے لے کر شمال مشرقی صوبوں کے دور دراز علاقوں تک، طالبان کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں افغان خواتین اور بچیوں کے ساتھ جو ستم ڈھائے جا رہے ہیں، وہ محض انفرادی یا اتفاقی مظالم نہیں بلکہ ایک جابرانہ اور منظم طرزِ حکمرانی کا حصہ بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یو این اے ایم اے کی جانب سے جاری کردہ مصدقہ رپورٹس کے مطابق، 2025 کے دوران افغانستان میں حراست کے دوران جنسی تشدد کے کم از کم 21 کیسز مکمل شواہد کے ساتھ ریکارڈ کیے گئے، جن میں 15 خواتین اور 6 کم عمر لڑکیاں شال تھیں۔ ان دستاویزات کا سب سے ہولناک پہلو یہ انکشاف ہے کہ ریپ، اجتماعی ریپ، جبری برہنگی اور جسمانی تشدد جیسے جرائم میں کسی دوسرے گروہ کے عسکریت پسند نہیں بلکہ خود طالبان کے بااثر عہدیدار اور سکیورٹی اہلکار براہِ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے 2021 میں جبری شادیوں پر نام نہاد پابندی کا اعلان کیا تھا، لیکن عملاً ان کے اپنے اہلکار خواتین کو اغوا اور بلیک میل کر کے جبری نکاح پر مجبور کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی سخت الفاظ میں نشان دہی کی ہے کہ جو خواتین طالبان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں یا اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، انہیں کچلنے کے لیے حراست اور جنسی تشدد کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ جنوری 2024 میں “نامناسب” یا “غیر شرعی” حجاب کے بہانے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن میں معصوم خواتین کو گرفتار کر کے تھانوں میں لایا گیا، جہاں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ سروں کو دیواروں سے ٹکرانا، گالم گلوچ، کپڑے پھاڑنا اور حراستی مراکز میں برہنہ کر کے تفتیش کرنا ایسے مظالم ہیں جو اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
حراست میں دی جانے والی اس بربریت کا اندازہ ان انفرادی کیسز سے لگایا جا سکتا ہے جو اب بین الاقوامی ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں:
مزار شریف کی طبی شعبے سے وابستہ خاتون زلیخا کا کیس اس درندگی کی ایک دردناک مثال ہے۔ زلیخا کو کام سے گھر لوٹتے ہوئے طالبان اہلکاروں نے اغوا کیا اور ایک نامعلوم مقام پر لے جا کر مسلسل اجتماعی ریپ اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہی نہیں بلکہ اس قبیح فعل کی ویڈیو بنا کر دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے کام جاری رکھا یا زبان کھولی تو یہ ویڈیو وائرل کر دی جائے گی، جس کے صدمے سے اس نے خودکشی کی کوشش کی۔
اسی طرح حقوقِ نسواں کی متحرک کارکن زرمنہ پریانی اور ان کی بہنوں کو کابل میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور دورانِ حراست ان کے کپڑے اتروا کر کیمروں کے سامنے برہنہ ویڈیو سیکیورٹی کے نام پر ریکارڈ کی گئی۔ رہائی کے بعد بھی انہیں مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا تاکہ وہ خاموش رہیں۔
صحافت کی طالبہ اور انسانی حقوق کی فعال کارکن پری کو گرفتاری کے بعد شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ انہیں دورانِ تفتیش کچھ ایسی ادویات اور گولیاں کھلائی گئیں جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں اور ہوش میں آنے پر معلوم ہوا کہ انہیں بے ہوشی کی حالت میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ بعد ازاں جرمنی پہنچ کر انہوں نے اپنا طبی معائنہ کرایا اور اس بربریت کی شکایت بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں درج کرائی۔
سابقہ افغان وزارتِ خواتین امور سے وابستہ 46 سالہ صدیقہ کو احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لے کر وحشیانہ مارپیٹ کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں، جبکہ ماڈل اور سوشل میڈیا کارکن تہمنہ کے گھر میں طالبان اہلکار داخل ہوئے، ان کے کپڑے پھاڑے، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اجتماعی زیادتی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کیا۔ اس المئے کے باعث ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی اور وہ نقل مکانی پر مجبور ہو گئیں۔
اسی طرح ہشتِ صبح کی تحقیقاتی رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ صوبہ تخار سمیت شمال مشرقی افغانستان میں واقع حراستی مراکز بدسلوکی اور جنسی استحصال کا گڑھ بن چکے ہیں۔
افغانستان کے اندر قائم اس خاموش قاتل ماحول کی اصل وجہ وہ سماجی بدنامی، انتقامی کارروائیوں کا ڈر اور جان کا خوف ہے جو متاثرہ خواتین کو زبان کھولنے نہیں دیتا۔ بیشتر واقعات کبھی پولیس، عدالتوں یا اقوام متحدہ تک پہنچ ہی نہیں پاتے، کیونکہ طالبان کی پالیسیوں نے خواتین کا قانونی اور طبی حمایتی نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جولائی 2025 تک ملک بھر میں 400 سے زائد صحت کے مراکزی اور جینڈر بیسڈ وائلنس سینٹرز بند ہو چکے ہیں، جبکہ خواتین وکلا اور ججوں کو عدالتی نظام سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ افغان خواتین کا انتظام سنبھالنے والے تمام تر عدالتی اور تفتیشی اداروں میں مرد اہلکار براجمان ہیں جہاں ایک مظلوم عورت کے لیے انصاف کا تصور بھی ممکن نہیں رہا۔ اسی بنا پر اقوام متحدہ نے اس موجودہ ڈھانچے کو صنفی امتیاز پر مبنی نظام قرار دیا ہے۔
طالبان کا یہ جابرانہ طرزِ عمل صرف خواتین تک محدود نہیں۔ رچرڈ بینیٹ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہاں بچوں کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ کم عمر لڑکوں کے جنسی استحصال یعنی بچہ بازی کی لعنت پھر سے اٹھ رہی ہے، بچوں کو سکیورٹی چیک پوسٹوں پر متنازع کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 91 سے زائد معصوم بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل تشیع اور ہزارہ برادری جیسی نسلی و مذہبی اقلیتوں کو یکسر نظر انداز کر کے نظام کو سنی پشتون مردوں کے تسلط تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ مخالف آوازوں اور سابق افغان فوجیوں کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں بھی بدستور جاری ہیں۔
اگرچہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے، تاہم سابق قیدیوں، متاثرہ خواتین اور اقوام متحدہ کے ناظمین کے پاس موجود ناقابلِ تردید شواہد ان سرکاری دعوؤں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں جہاں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے افغانستان کے لیے ایک مستقل اور آزاد تحقیقاتی میکانزم تشکیل دیا ہے تاکہ ان جرائم کا ڈیٹا اور شواہد جمع کیے جا سکیں، وہیں عالمی برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف زبانی مذمتوں اور رسمی رپورٹس تک محدود نہ رہے۔ اگر دنیا نے طالبان کے ساتھ اپنے سیاسی اور سفارتی تعلقات کو انسانی حقوق کی بحالی سے مشروط نہ کیا، تو کابل کے تاریک قید خانوں میں افغان خواتین کی سسکیاں عالمی ضمیر پر ہمیشہ ایک بدنما داغ بنی رہیں گی۔