افغانستان کے صوبہ بدخشان میں جمعہ خان کمانڈر کے باقی ماندہ جنگجوؤں کی لاشوں کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں طالبان اہلکار لاشوں کے پاس موجود اسلحہ اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بدخشان کے پہاڑی علاقے میں حملے یا جھرپ کے بعد کی صورتِ حال کو دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق طالبان مخالف مسلح گروہ کے کمانڈر جمعہ خان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طالبان نے علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاں بحق ہونے والے جنگجوؤں میں سے بعض عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں۔ طالبان اہلکار موقع پر موجود لاشوں کی تلاشی لیتے ہوئے ان کا ذاتی سامان اور وزنی اسلحہ جمع کر رہے ہیں، جبکہ اس دوران اہلکاروں کو ماشاءاللہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔
صوبہ بدخشان اور اس کے گرد و نواح کے پہاڑی اضلاع گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان فورسز اور مقامی مزاحمتی گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ طالبان کی جانب سے متعدد بار ان علاقوں میں آپریشن کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے، تاہم جمعہ خان جیسے مقامی کمانڈروں کے ساتھ جھڑپیں بدخشان میں غیر مستحکم سیکیورٹی صورتِ حال کی نشاندہی کرتی ہیں۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ شمالی صوبوں میں ان کے خلاف کام کرنے والے تمام مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے، تاہم حالیہ ویڈیوز اور جھڑپوں کی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدخشان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں اب بھی مقامی مزاحمت اور سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔