"> اڈیالہ کی سیاست یا خیبر پختونخوا کی حکومت؟
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اڈیالہ کا بیانیہ یا خیبر پختونخوا کے عوام؟

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل سے ملنے والی سیاسی ہدایات اور احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے صوبے میں گورننس شدید متاثر ہو رہی ہے۔
اڈیالہ کی سیاست یا خیبر پختونخوا کی حکومت؟

پاکستان کی سیاست میں پی ٹی آئی کی تمام تر سرگرمیاں پارلیمان یا عوامی خدمت کے بجائے اڈیالہ جیل کے بیانیے پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

August 21, 2026

پاکستان کی سیاست کو ایک بار پھر پی ٹی آئی کی صفوں میں جاری عدم استحکام اور غیر سنجیدہ رویے کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کا تمام تر محور پارلیمان میں مثبت کردار ادا کرنے یا صوبائی سطح پر عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف اڈیالہ جیل اور سیاسی محاذ آرائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذاتی اور احتجاجی حکمتِ عملی کو پوری پارٹی پر مسلط کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت انتظامی بدحالی اور عوامی شکایات کو دور کرنے میں مکمل طور پر ناپائیدار ثابت ہو رہی ہے۔

اڈیالہ جیل سے جاری ہونے والے سیاسی پیغامات اور دباؤ کے تحت تحریک انصاف کے رہنما عوامی بہبود کے اقدامات چھوڑ کر صرف احتجاج اور سیاسی بیانیے کے فروغ میں مصروف ہیں۔ پارٹی کی قیادت صوبائی وسائل اور انتظامی وقت کو اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی اور سڑکوں کی سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث اڈیالہ ایک بار پھر نفی کی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مسلسل حکمرانی کے باوجود صوبہ شدید انتظامی و معاشی چیلنجز کی لپیٹ میں ہے۔ صوبائی حکومت امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال، معاشی ابتری، تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں اور صحت و تعلیم کی بگڑتی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی واضح پالیسی پیش کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ عوام کی ترجیح سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی اقدامات تھے، لیکن حکومت کی تمام تر توجہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر مرکوز ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو یونہی سیاسی بیانیے کی قربانی بنایا جاتا رہے گا؟ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور اخلاقی فرائض سے منہ موڑ کر صرف ایک قیدی کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کی بنیادی پہچان امن و امان، روزگار، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں کارکردگی ہوتی ہے، لیکن پی ٹی آئی نے صوبے کی باگ ڈور کو پارٹی مفادات کے تابع کر دیا ہے۔

موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اڈیالہ کی سیاست اور خیبر پختونخوا میں گورننس کے درمیان کسی بھی قسم کا توازن قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اگر سیاسی سرگرمیوں کا مقصد صرف جلسے، جلوس اور مخالفین پر تنقید تک محدود رہے گا تو عوامی فلاح و بہبود کا ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔

بالآخر تاریخ اور قوم کسی بھی جماعت کا فیصلہ کھوکھلے نعروں سے نہیں بلکہ اس کی عملی کارکردگی سے کرتی ہے۔ اڈیالہ سے آنے والے احکامات کی پاسداری چاہے پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے جتنی بھی اہم ہو، خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ صوبے کے عوام کو سیاسی انتشار کے بجائے امن اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکمران عوامی ذمہ داریوں کو نبھانے کے بجاۓ سیاست کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *