پاکستان کی سیاست کو ایک بار پھر پی ٹی آئی کی صفوں میں جاری عدم استحکام اور غیر سنجیدہ رویے کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کا تمام تر محور پارلیمان میں مثبت کردار ادا کرنے یا صوبائی سطح پر عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف اڈیالہ جیل اور سیاسی محاذ آرائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذاتی اور احتجاجی حکمتِ عملی کو پوری پارٹی پر مسلط کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت انتظامی بدحالی اور عوامی شکایات کو دور کرنے میں مکمل طور پر ناپائیدار ثابت ہو رہی ہے۔
اڈیالہ جیل سے جاری ہونے والے سیاسی پیغامات اور دباؤ کے تحت تحریک انصاف کے رہنما عوامی بہبود کے اقدامات چھوڑ کر صرف احتجاج اور سیاسی بیانیے کے فروغ میں مصروف ہیں۔ پارٹی کی قیادت صوبائی وسائل اور انتظامی وقت کو اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی اور سڑکوں کی سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث اڈیالہ ایک بار پھر نفی کی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مسلسل حکمرانی کے باوجود صوبہ شدید انتظامی و معاشی چیلنجز کی لپیٹ میں ہے۔ صوبائی حکومت امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال، معاشی ابتری، تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں اور صحت و تعلیم کی بگڑتی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی واضح پالیسی پیش کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ عوام کی ترجیح سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی اقدامات تھے، لیکن حکومت کی تمام تر توجہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر مرکوز ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو یونہی سیاسی بیانیے کی قربانی بنایا جاتا رہے گا؟ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور اخلاقی فرائض سے منہ موڑ کر صرف ایک قیدی کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کی بنیادی پہچان امن و امان، روزگار، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں کارکردگی ہوتی ہے، لیکن پی ٹی آئی نے صوبے کی باگ ڈور کو پارٹی مفادات کے تابع کر دیا ہے۔
موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اڈیالہ کی سیاست اور خیبر پختونخوا میں گورننس کے درمیان کسی بھی قسم کا توازن قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اگر سیاسی سرگرمیوں کا مقصد صرف جلسے، جلوس اور مخالفین پر تنقید تک محدود رہے گا تو عوامی فلاح و بہبود کا ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
بالآخر تاریخ اور قوم کسی بھی جماعت کا فیصلہ کھوکھلے نعروں سے نہیں بلکہ اس کی عملی کارکردگی سے کرتی ہے۔ اڈیالہ سے آنے والے احکامات کی پاسداری چاہے پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے جتنی بھی اہم ہو، خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ صوبے کے عوام کو سیاسی انتشار کے بجائے امن اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکمران عوامی ذمہ داریوں کو نبھانے کے بجاۓ سیاست کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔