اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ نے مقبوضہ بیت المقدس میں نام نہاد ای1 پلان کے تحت نئی اسرائیلی آبادکاری کی شدید مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے مطابق اسرائیلی قابض حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں 1,234 نئی آبادکاری یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جس کی تنظیم نے سختی سے مذمت کی۔
او آئی سی کے مطابق یہ اقدام نوآبادیاتی آبادکاری، الحاق، جبری بے دخلی اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی، سیاسی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ بدوی آبادیوں کی جبری بے دخلی کا خطرہ پیدا کرتا ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کو اس کے فلسطینی اطراف سے الگ کرنے کی کوشش ہے، جس سے فلسطینی سرزمین کی علاقائی وحدت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ
او آئی سی نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی منصوبہ فوری طور پر روکا جائے، ٹینڈر واپس لیا جائے اور اسرائیلی آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بند کی جائیں۔
او آئی سی کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی نوآبادیاتی بستیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غیر قانونی ہیں، جن میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 بھی شامل ہے۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق قابض طاقت آبادکاری، الحاق یا جبری بے دخلی کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی قانونی، سیاسی یا آبادیاتی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتی۔
پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی مسلسل حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستان کے مطابق یہی فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل ہے۔