"> فتنۃ الخوارج کا کمزوری چھپانے کے لیے پراپیگنڈے پر انحصار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں: دہشت گرد گروہ مبالغہ آمیز دعوؤں پر مجبور

سکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے باعث فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد زمینی گنجائش کھو چکے ہیں اور اب اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مبالغہ آمیز دعوؤں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔
فتنۃ الخوارج کا کمزوری چھپانے کے لیے پراپیگنڈے پر انحصار

سکیورٹی آپریشنز کے باعث فتنۃ الخوارج کے پچاس فیصد حملوں کے دعوے جعلی ثابت، زمینی شکست کے بعد میڈیا اور نفسیاتی جنگ پر انحصار بڑھ گیا۔

August 24, 2026

سکیورٹی فورسز کے مسلسل اور مؤثر آپریشنز کے باعث دہشت گردوں کو شدید ناکامی کا سامنا ہے۔ زمینی گنجائش سکڑنے کے بعد دہشت گرد گروہ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے مبالغہ آمیز حملوں اور جھوٹے دعووں کی نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مسلسل دباؤ اور کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے لیے عملی سرگرمیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ سرحد پار افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہیں۔

زمینی سطح پر شکست کے بعد اب یہ عناصر گمراہ کن معلومات اور من گھڑت ہلاکتوں کے دعوؤں کے ذریعے اپنی طاقت کا جھوٹا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق مذکورہ فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے جانے والے تقریباً 50 فیصد حملوں کے دعوے مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہوتے ہیں۔ ایک ہی واقعے کی ذمہ داری متعدد گروہوں کی جانب سے قبول کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر صرف اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور حامیوں کا حوصلہ بحال رکھنے کے لیے ڈس انفارمیشن مہم چلا رہے ہیں۔

اس پراپیگنڈے کو پھیلانے میں افغانستان اور بھارت میں موجود مخالف نیٹ ورکس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ ان عناصر کو زمینی حقیقت سے زیادہ طاقتور دکھایا جا سکے۔

تاہم سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پراپیگنڈے پر بڑھتا ہوا انحصار دہشت گردوں کی آخری ہچکیوں کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *