سکیورٹی فورسز کے مسلسل اور مؤثر آپریشنز کے باعث دہشت گردوں کو شدید ناکامی کا سامنا ہے۔ زمینی گنجائش سکڑنے کے بعد دہشت گرد گروہ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے مبالغہ آمیز حملوں اور جھوٹے دعووں کی نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مسلسل دباؤ اور کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے لیے عملی سرگرمیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ سرحد پار افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہیں۔
زمینی سطح پر شکست کے بعد اب یہ عناصر گمراہ کن معلومات اور من گھڑت ہلاکتوں کے دعوؤں کے ذریعے اپنی طاقت کا جھوٹا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق مذکورہ فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے جانے والے تقریباً 50 فیصد حملوں کے دعوے مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہوتے ہیں۔ ایک ہی واقعے کی ذمہ داری متعدد گروہوں کی جانب سے قبول کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر صرف اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور حامیوں کا حوصلہ بحال رکھنے کے لیے ڈس انفارمیشن مہم چلا رہے ہیں۔
اس پراپیگنڈے کو پھیلانے میں افغانستان اور بھارت میں موجود مخالف نیٹ ورکس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ ان عناصر کو زمینی حقیقت سے زیادہ طاقتور دکھایا جا سکے۔
تاہم سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پراپیگنڈے پر بڑھتا ہوا انحصار دہشت گردوں کی آخری ہچکیوں کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔