کسی بھی ملک کی عسکری قوت کی بنیاد صرف جدید اسلحے، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت پر نہیں ہوتی، بلکہ اس ادارہ جاتی نظام پر بھی ہوتی ہے جو اپنے جوانوں اور کیڈٹس کی زندگی، صحت اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ فوجی تربیت کا راستہ اختیار کرنے والا ہر نوجوان اپنے مستقبل کو وطن کے دفاع کے لیے وقف کرتا ہے، اس لیے ریاست اور عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت اور فلاح کو بھی اولین ترجیح دیں۔ بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے کیڈٹ پرتھم مہالے کے المناک واقعے اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے تربیتی و حفاظتی نظام کا تقابلی جائزہ اسی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔
بھارت میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے کیڈٹ پرتھم مہالے کے المناک واقعے اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے تربیتی و حفاظتی معیار کا تقابلی جائزہ دونوں ممالک کے عسکری فریم ورک اور اخلاقی اقدار کے واضح فرق کو آشکار کرتا ہے۔
بھارت کی عسکری اکیڈمیوں میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مسائل اکثر قانونی اور اخلاقی ناانصافی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ پونے کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں زیرِ تربیت کیڈٹ پرتھم مہالے کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھارتی عسکری انتظامیہ کے سرد رویے کی ایک واضح مثال ہے۔
سخت باکسنگ چیمپئن شپ کے دوران سر پر شدید چوٹ لگنے سے پرتھم کی موت واقع ہو گئی، لیکن اس حادثے کے بعد ان کے شدید غمزدہ والدین کو نہ تو واقعے کی شفاف تحقیقات کی تفصیلات فراہم کی گئیں اور نہ ہی کسی قسم کی اداریاتی سرپرستی دکھائی گئی۔ بھارت میں یہ مسئلہ صرف ایک ناگہانی حادثے تک محدود نہیں بلکہ وہاں کا قانونی نظام ہی کیڈٹس کو بنیادی تحفظ سے محروم رکھتا ہے، جہاں زیرِ تربیت کیڈٹس کو باقاعدہ فوجی افسر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث معذوری یا ہلاکت کی صورت میں وہ مراعات اور انشورنس حاصل نہیں ہوتی جو ایک کمیشنڈ افسر کا حق ہوتی ہے۔
بھارتی عسکری ڈھانچے کی اس اداریاتی بے حسی کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو محض چند لاکھ روپے کے معمولی معاوضے کی بات کر کے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے اور واقعے کی حقیقی وجوہات سے متعلق ان کے سوالات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بھارت میں اکیڈمیز کے اندر پیش آنے والے ایسے واقعات کے بعد ریاست یا عسکری قیادت کی طرف سے متاثرہ خاندان کی عزتِ نفس اور اخلاقی معاونت کی کوئی مستقل ضمانت نہیں دی جاتی، جو کہ ایک سنگین ناانصافی اور ناروا سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کے عسکری اداروں اور بالخصوص پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹ کو محض ایک ٹرینی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا محافظ اور عسکری خاندان کا اہم ترین رکن سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں تربیت کی سختی کے ساتھ ساتھ کیڈٹس کی جسمانی اور ذہنی صحت کو اولیت دی جاتی ہے، اور کسی بھی ناگہانی حادثے یا بیماری کی صورت میں ملک کی اعلیٰ ترین عسکری طبی سہولیات کی فوری دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے۔ پاک فوج اپنے کیڈٹس کے خاندانوں کے ساتھ ایک گہرا اداریاتی، اخلاقی اور جذباتی رشتہ قائم رکھتی ہے، جہاں فوجی وردی کی حرمت کا خیال ہر قدم پر رکھا جاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے عسکری رویوں کا سب سے بڑا اور نمایاں فرق شہادت یا ہلاکت کے بعد دیے جانے والے احترام اور باقاعدہ پروٹوکول میں نظر آتا ہے۔ جہاں بھارت میں کیڈٹ کے ساتھ حادثہ پیش آنے پر اس کے خاندان کو قانونی پیچیدگیوں اور جوابات کی تلاش میں بھٹکنا پڑتا ہے، وہاں پاکستان میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ہر جوان اور افسر کو عظیم ترین عسکری اور قومی احترام سے نوازا جاتا ہے۔ شہید کا جسدِ خاکی پورے عسکری پروٹوکول، فوج کی باقاعدہ حاضری، سلامی اور قومی پرچم میں لپیٹ کر اس کے آبائی گھر بھیجا جاتا ہے، جس سے اس کے خاندان کے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں کیپٹن روح اللہ شہید جیسے عظیم سپاہیوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کی دفاعی جنگ میں اپنی جان قربان کی۔ پاکستان کا عسکری نظام یہ باور کرواتا ہے کہ شہادت کے بعد صرف نام کو یاد نہیں رکھا جاتا بلکہ اس کے خاندان کو ریاستی سطح پر شہید خاندان کا عظیم ترین مقام، دائمی احترام اور مستقل مالی و سماجی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ادارہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا رہتا ہے۔
بھارت میں پرتھم مہالے کا کیس یہ ثابت کرتا ہے کہ وہاں کا عسکری نظام زیرِ تربیت کیڈٹس کو بنیادی حقوق اور مالی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، جہاں نوجوانوں کی زندگیوں کو اداریاتی بے حسی کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان عسکری نظام کا سب سے مضبوط پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے جوانوں کو صرف عسکری مہارتیں ہی نہیں سکھاتا بلکہ ہر مرحلے پر ان کی سلامتی، پروٹوکول، اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ان کے خاندان کی کامل سرپرستی کی باوقار روایت کو برقرار رکھتا ہے۔