صوبہ بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان فورسز اور مسلح مزاحمتی گروہ جبھہ آزادی افغانستان کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں طالبان کے خلاف بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت کی عکاسی ہوتی ہے۔
ترجمان کے مطابق دو گھنٹے جاری رہنے والی اس جھڑپ میں بھاری ہتھیاروں اور مارٹر گولوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ مزاحمتی جنگجوؤں نے طالبان کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے ان کی ایک اہم مشین گن پوزیشن کو نشانہ بنایا، جس سے طالبان کو جانی نقصان اٹھانے کے بعد پیچھے ہٹنا پڑا۔
عوام میں طالبان کی مبینہ سختیوں اور کارروائیوں کے خلاف پائے جانے والے شدید غصے کے باعث اب مقامی سطح پر بھی مزاحمتی عناصر کو حمایت ملنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ بدخشاں کی جغرافیائی صورت حال اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں نے بھی مخالفین کے لیے دفاع کو آسان بنا دیا ہے۔
جھڑپ کے بعد مزاحمتی جنگجو اپنے ٹھکانوں پر مضبوطی سے قائم ہیں اور ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر دفاعی پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔
دیکھیے: تاجکستان میں حسیب پنجشیری کی یاد میں تقریب کا اہتمام، افغان سفیر کا خراجِ عقیدت