"> ننگرہار میں مزاحمتی حملہ: طالبان کمانڈر ملا داؤد ہلاک
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ننگرہار میں مزاحمتی حملہ: طالبان کمانڈر ملا داؤد ہلاک، 2 محافظ زخمی

صوبہ ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں طالبان کے مقامي کمانڈر ملا داؤد افضل ہلاک ہو گئے۔
طالبان کمانڈر ملا داؤد ہلاک

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے حملے کے نتیجے میں طالبان کے مقامی کمانڈر ملا داؤد افضل ہلاک اور دو محافظ زخمی ہو گئے۔

August 24, 2026

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ میں مسلح افراد نے حملہ کر کے طالبان کے مقامی کمانڈر ملا داؤد افضل کو ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ملا داؤد افضل اپنے محافظوں کے ہمراہ جا رہے تھے کہ پہلے سے گھات لگائے بیٹھے مسلح جنگجوؤں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اچانک حملے کے نتیجے میں کمانڈر موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے 2 محافظ شدید زخمی ہو گئے۔

زخمی محافظوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے فوری بعد طالبان فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق قندھار میں 21 اگست کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے ایک حملے میں 2 طالبان اہلکار مارے گئے، جبکہ 22 اگست کو کابل میں طالبان کے ایک انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنایا گیا۔ متعلقہ گروہ کے مطابق مذکورہ افسر سابق سکیورٹی اہلکاروں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد میں براہِ راست ملوث تھا۔

ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ میں 21 اگست کو افغان فریڈم فرنٹ کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں مقامی طالبان کمانڈر ملا داؤد افضل ہلاک اور ان کے 2 محافظ شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ 20 اگست کو بغلان میں طالبان دستے پر حملے کے نتیجے میں 2 اہلکار مارے گئے، جبکہ 23 اگست کو بدخشاں میں طالبان کی پیش قدمی کو افغان فریڈم فرنٹ نے جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بناتے ہوئے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جغرافیائی طور پر دور دراز علاقوں اور اہم شہروں میں پھیلتی یہ مزاحمت محض مقامی جھڑپیں نہیں، بلکہ طالبان کے سخت گیر اور غیر جواب دہ طرزِ حکمرانی کے خلاف شدید عوامی بے چینی کا نتیجہ ہیں۔

سیاسی عدم شمولیت، جبر اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں نے افغان عوام کے غصے کو بڑھایا ہے، جس کے باعث طالبان کے سیکیورٹی نظام اور زمینی کنٹرول پر گرفت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دیکھیے: تاجکستان میں حسیب پنجشیری کی یاد میں تقریب کا اہتمام، افغان سفیر کا خراجِ عقیدت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *