افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ میں مسلح افراد نے حملہ کر کے طالبان کے مقامی کمانڈر ملا داؤد افضل کو ہلاک کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ملا داؤد افضل اپنے محافظوں کے ہمراہ جا رہے تھے کہ پہلے سے گھات لگائے بیٹھے مسلح جنگجوؤں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اچانک حملے کے نتیجے میں کمانڈر موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے 2 محافظ شدید زخمی ہو گئے۔
زخمی محافظوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے فوری بعد طالبان فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قندھار میں 21 اگست کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے ایک حملے میں 2 طالبان اہلکار مارے گئے، جبکہ 22 اگست کو کابل میں طالبان کے ایک انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنایا گیا۔ متعلقہ گروہ کے مطابق مذکورہ افسر سابق سکیورٹی اہلکاروں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد میں براہِ راست ملوث تھا۔
ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ میں 21 اگست کو افغان فریڈم فرنٹ کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں مقامی طالبان کمانڈر ملا داؤد افضل ہلاک اور ان کے 2 محافظ شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ 20 اگست کو بغلان میں طالبان دستے پر حملے کے نتیجے میں 2 اہلکار مارے گئے، جبکہ 23 اگست کو بدخشاں میں طالبان کی پیش قدمی کو افغان فریڈم فرنٹ نے جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بناتے ہوئے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جغرافیائی طور پر دور دراز علاقوں اور اہم شہروں میں پھیلتی یہ مزاحمت محض مقامی جھڑپیں نہیں، بلکہ طالبان کے سخت گیر اور غیر جواب دہ طرزِ حکمرانی کے خلاف شدید عوامی بے چینی کا نتیجہ ہیں۔
سیاسی عدم شمولیت، جبر اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں نے افغان عوام کے غصے کو بڑھایا ہے، جس کے باعث طالبان کے سیکیورٹی نظام اور زمینی کنٹرول پر گرفت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
دیکھیے: تاجکستان میں حسیب پنجشیری کی یاد میں تقریب کا اہتمام، افغان سفیر کا خراجِ عقیدت