عام انتخابات کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس آج بروز پیر ہوگا، جس میں نو منتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔
حلف برداری سے قبل 7 مخصوص نشستوں کے لیے صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک پولنگ ہوگی۔ ان نشستوں میں خواتین کی 5، ٹیکنوکریٹس اور علما کی ایک، ایک نشست شامل ہے۔
اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ مخصوص نشستوں کے نتائج کے اعلان کے بعد نو منتخب ارکان اسمبلی دوپہر 2 بجے حلف اٹھائیں گے۔
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب
آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کل منگل کو ہوگا، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے 27 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
مسلم لیگ ن کو 53 رکنی ایوان میں 25 نشستوں کے ساتھ واضح برتری حاصل ہے۔ مخصوص نشستوں اور عوامی دستِ بازو کی حمایت کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی قوت 33 ارکان تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اس صورتحال میں مسلم لیگ ن حکومت سازی کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے بھی آئندہ وزیراعظم اور اسپیکر کے ممکنہ ناموں پر غور کیا ہے۔
کشمیر کی صورتحال
اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مسلم لیگ ن نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ پارٹی نے کشمیر سے متعلق امریکی سفیر برائے بھارت سے منسوب بیانات کو بھی مسترد کیا۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات تنازعات سے بھی دوچار رہے ہیں۔ وفاق میں مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی اور تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔
نئی اسمبلی کے حلف کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا، جبکہ 27 اگست کو نئے وزیراعظم کے انتخاب کے ساتھ آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کا مرحلہ مکمل ہونے کا امکان ہے۔