پاکستان میں پائیدار امن کی بحالی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے مسلسل اور کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں فتنۃ الخوارج کی عملی صلاحیتیں بری طرح مفلوج ہو چکی ہیں۔ میدانِ جنگ میں درپیش مسلسل ناکامیوں اور سکیورٹی فورسز کے گھیراؤ سے بچنے کے لیے خوارج کی بڑی تعداد سرحد پار افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں کی طرف فرار ہونے پر مجبور ہو چکی ہے۔
جب کسی سکیورٹی یا عسکری تنظیم کا زمینی اثر و رسوخ ختم ہونے لگتا ہے تو وہ اپنی نااہلی اور ناکامی کو چھپانے کے لیے نفسیاتی جنگ اور ڈس انفارمیشن کا سہارا لیتی ہے۔ فتنۃ الخوارج بھی اس وقت اپنی گرتی ہوئی پتنگ کو سنبھالا دینے کے لیے مبالغہ آمیز، من گھڑت اور گمراہ کن بیانیے پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔
حالیہ مستند اعداد و شمار خوارج کے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ سیکیورٹی اور ڈیفنس ریسرچ کے اداروں جیسے پکس اور پی آئی پی ایس کے ریکارڈ کے مطابق فتنۃ الخوارج کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کے کیے گئے دعوؤں میں سے محض 19 فیصد کی تصدیق ہو سکی ہے، جبکہ پی آئی پی ایس کا ریکارڈ اس سے بھی کم شرح ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، خوارج کی جانب سے کیے جانے والے تمام تر حملوں کے دعوؤں میں سے تقریباً 50 فیصد مکمل طور پر جعلی، غیر موجود اور ناقابلِ تصدیق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ فتنۃ الخوارج اپنی جعلی کارروائیوں اور جھوٹے دعوؤں کے ذریعے ایک مصنوعی اور غیر حقیقی طاقت کا تاثر قائم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار پاکستان میں جاری بے مثال انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا پتہ دیتے ہیں۔ سال 2026 میں سکیورٹی فورسز نے کل 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے ہیں، جن کی روزانہ کی اوسط 194 آپریشنز بنتی ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 2,084 سے زائد خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل یا غیر مؤثر کیا گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کے بعد خوارج کے پاس اپنے باقی ماندہ جنگجوؤں کا حوصلہ برقرار رکھنے اور غیر ملکی آقاؤں سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔
خوارج کی اس نفسیاتی جنگ کا ایک انتہائی گھناؤنا پہلو عام نوعیت کے جرائم، خاندانی تنازعات اور ذاتی دشمنیوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا رنگ دینا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں رونما ہونے والے زمین کے جھگڑوں، بھتہ خوری یا ذاتی عناد پر مبنی قتل کے واقعات کو فوراً اپنے نام سے منسوب کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گویا یہ خوارج کا منظم نیٹ ورک انجام دے رہا ہے۔
اس کی ایک واضح مثال صحافی ہارون خان کے قتل کا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری فتنۃ الخوارج نے فوری طور پر قبول کر لی تھی، تاہم بعد میں پولیس کی پیشہ ورانہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ قتل محض ایک طویل عرصے سے جاری خاندانی جائیداد کا تنازع تھا۔ اسی طرح ایک اور واقعے میں سابق خوارجی کمانڈر نے امن کمیٹی کے رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جو کہ بعد میں مقتول کے اپنے کزن کے ساتھ مسلح تنازع کا نتیجہ نکلا۔
یہ صورتحال محض ذاتی تنازعات کے استعمال تک محدود نہیں، بلکہ دہشت گرد گروہوں کی آپسی رسہ کشی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ بعض اوقات ایک ہی حملے یا واقعے کی ذمہ داری متعدد کالعدم تنظیمیں بیک وقت قبول کرتی ہیں۔ اس کا مقصد دہشت گردوں کے منظرنامے پر ایک دوسرے سے آگے نکلنا، خود کو سب سے زیادہ فعال اور اثر و رسوخ رکھنے والی قوت ثابت کرنا اور اپنے نیٹ ورک کے لیے مزید فنڈنگ کا راستے بنانا ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کے لیے نظریہ یا مذہب نہیں بلکہ صرف مالی مفادات اور بالادستی کی جنگ اہم ہے۔
فتنۃ الخوارج کے اس گمراہ کن بیانیے کو سرحد پار اور بیرونِ ملک سے متحرک دشمن نیٹ ورکس کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہونے والے سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بوٹس شب و روز خوارج کے ان غیر مصدقہ دعووں کو ری ٹویٹ، شیئر اور وائرل کرتے ہیں۔ اس منظم ڈس انفارمیشن وارفیئر کا بنیادی مقصد پاکستانی عوام کے اندر خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کی کامیابیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا اور فورسز پر عوامی اعتماد کو زائل کرنا ہے۔ دشمن کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح عدم تحفظ کا ایسا مصنوعی تاثر قائم کیا جائے جس سے ملکی معیشت اور سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہوں۔
تاہم، حقائق اور اعداد و شمار دشمن کے اس ناپاک منصوبے کو سچائی کے آئینے میں بے نقاب کر چکے ہیں۔ کسی بھی واقعے کی بلا تحقیق تشہیر، دعویٰ، مبالغہ آرائی اور پھر بار بار تکرار کا فتنہ اب دم توڑ رہا ہے۔ پاکستان کے غیور عوام اور سیکیورٹی فورسز اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فتنۃ الخوارج کی محدود ہوتی ہوئی زمینی گنجائش اور پراافغان خواتین پر طالبان کا جبر: کابل کے قید خانوں کی دردناک داستان پراپیگنڈے پر بڑھتا ہوا انحصار ان کی حتمی شکست کی علامت ہے۔ پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے ملک سے آخری خوارجی کے خاتمے تک اپنا آپریشنل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
دیکھیے: افغان خواتین پر طالبان کا جبر: کابل کے قید خانوں کی دردناک داستان