وزارتِ ریلوے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جس سے گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
سرکلر ریلوے کا دائرہ کار معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔
منصوبے کے اگلے مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے ساتھ ساتھ مردان، چارسدہ، پشاور اور طورخم کے درمیان ریلوے روابط بھی قائم کیے جائیں گے۔
حکومتی قیادت اور متوقع فوائد فریم ورک معاہدے پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے دستخط کیے۔
اس منصوبے کی تکمیل سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کو جدید اور آرام دہ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
تاریخی ریلوے ورثے کی بحالی معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے تاریخی ریلوے اسٹیشنز کی بحالی اور تزئین و آرائش کی ذمہ دار ہوگی۔
اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے رواں سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
ترجیحی روٹس اور فزیبلٹی سٹڈی نوشہرہ-جہانگیرہ ریلوے روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی فزیبلٹی سٹڈی کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ 30 اگست تک ایوارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے ساتھ ہی نوشہرہ، مردان اور درگئی ریلوے لنک کو بھی مرحلہ وار عملی شکل دی جائے گی۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا: 7 ماہ میں 156 پولیس اہلکار جاں بحق، رپورٹ جاری