رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں 156 پولیس اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق ان سات ماہ میں پولیس اہلکار مسلسل عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ واقعات ہنگو، بنوں، کرک، ٹانک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر میں پیش آئے، جہاں پولیس اہلکاروں کو فائرنگ، گھات لگا کر حملوں اور دیگر عسکریت پسند کارروائیوں کا سامنا رہا۔
ان واقعات میں پولیس اہلکاروں کی قیمتی جانوں کا ضیاع خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ قبائلی اضلاع اور جنوبی اضلاع میں پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عوام کے تحفظ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق عسکریت پسندی کے خاتمے اور پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور دیگر سکیورٹی اقدامات جاری ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں فائرنگ کے مختلف واقعات، 5 مزدوروں سمیت 8 افراد جاں بحق