حکومتِ بلوچستان نے ریاست مخالف سرگرمیوں اور بدامنی میں ملوث انتہائی مطلوب خواتین دہشت گردوں کے پوسٹر جاری کرتے ہوئے ان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ صرف دہشت گردی اور قانون کی بالادستی کا ہے، کیونکہ کسی شخص کی جنس، قبیلہ یا علاقہ اسے آئین و قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ حکومت کی جانب سے انعامی رقم صرف ان مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والی مصدقہ اطلاع پر دی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مطلوب خواتین میں گوادر کی حنیفاں، رقیہ، عائشہ، اقرا اور عزیزاں شامل ہیں، جبکہ کلڈان، جیوانی سے حفصہ اور زہرہ، کُڈن دشت سے امینہ ہانی اور شادی کور، پسنی سے زرعین شامل ہیں۔ ان مطلوب خواتین کی گرفتاری پر 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کے نقد انعام مقرر کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم بی ایل اے میں چند خواتین کی شمولیت کو عوامی بغاوت یا بلوچ خواتین کی اجتماعی سوچ بنا کر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔ بلوچ روایت میں عورت کی حرمت بنیادی قدر ہے اور خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا اس روایت کا استحصال ہے۔
حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اطلاع دینے والے افراد کی شناخت مکمل خفیہ رکھی جائے گی اور امدادی رقم قواعد و ضوابط کے مطابق فراہم کی جائے گی۔