معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے شبر زیدی کی جانب سے سی پیک اور پاک چین تجارتی تعلقات پر دی گئے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شبر زیدی کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ چین سے تجارتی تعلقات یا سی پیک کے تحت لگے بجلی کے منصوبوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کی آمد سے قبل ملک طویل ترین لوڈشیڈنگ کے بحران میں ڈوبا ہوا تھا، جبکہ ان منصوبوں نے ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر کے ملکی انڈسٹری کو تباہی سے بچایا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں اور گردشی قرضے کا تعلق ملکی انتظامی، اندرونی معاملات اور ایندھن کی عالمی قیمتوں سے ہے، نہ کہ چینی سرمایہ کاری سے۔ شبر زیدی جیسے دانشوروں کا اپنی انتظامی ناکامیوں کا ملبہ چین یا سی پیک پر ڈالنا معاشی نادانی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی مقامی صنعت خام مال اور مشینری کے لیے چین پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں شبر زیدی کا چین سے تجارتی تعلقات محدود کرنے کا مشورہ ملکی مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو مفلوج کرنے کے مترادف ہو گا۔
تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ سی پیک محض بجلی کے پلانٹس کا نام نہیں بلکہ یہ گوادر پورٹ، موٹرویز اور اکنامک زونز پر مشتمل طویل المدتی وژن ہے۔ پاک چین دوستی چٹان کی طرح مضبوط ہے اور شبر زیدی کے سطحی بیانات سے اس معاشی شاہراہ اور لازوال شراکت داری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
دیکھیے: آئندہ سال ایس سی او سربراہی اجلاس پاکستان میں ہوگا، ترجمان دفتر خارجہ