ترناب فارم میں چمکنی تھانے کی چیک پوسٹ پر دستی بم حملے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

August 27, 2026

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 19 دہشتگرد ہلاک، اہم عسکری کمانڈر گرفتار اور 3 مغوی بازیاب کرا لیے گئے۔

August 27, 2026

معاشی ماہرین نے شبر زیدی کی سی پیک پر تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے نے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کو سہارا دیا ہے۔

August 27, 2026

محکمہ تعلیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 627 سرکاری اسکول مکمل طور پر غیر فعال ہیں، جن میں سے اکثریت ضم شدہ اضلاع میں واقع ہے۔

August 27, 2026

آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، پاکستان ایک سال کے لیے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالے گا۔

August 27, 2026

وزیرستان کے علاقے جنکھیل میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر مشتاق عرف جنم کو ہلاک کر دیا۔

August 27, 2026

خیبرپختونخوا: 627 سرکاری اسکول بند، تعلیمی نظام کے لیے سنگین چیلنج

محکمہ تعلیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 627 سرکاری اسکول مکمل طور پر غیر فعال ہیں، جن میں سے اکثریت ضم شدہ اضلاع میں واقع ہے۔
خیبرپختونخوا کا بند سرکاری اسکول، دروازے پر تالا

جب حکومت اور صوبائی کابینہ کی تمام تر توجہ ایک شخصیت، عمران خان، کے گرد مرکوز ہو جائے تو حکمرانی، عوامی مسائل اور بنیادی ذمہ داریاں پسِ پشت چلی جاتی ہیں، اور پھر ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں۔

August 27, 2026

سوچیے، ایک بچہ صبح یونیفارم پہن کر کتابیں اٹھائے اسکول پہنچے اور وہاں استاد یا کلاس روم کے بجائے اسے بند دروازہ اور تالا نظر آئے۔ یہ محض تصور نہیں بلکہ سینکڑوں بچوں کی حقیقت بن چکی ہے۔

محکمہ تعلیم کی تازہ سالانہ سروے رپورٹ کے مطابق صوبے کے 627 سرکاری اسکول مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔ ان اسکولوں میں نہ تدریسی عمل جاری ہے اور نہ ہی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف اسکولوں کی بندش نہیں دکھاتے بلکہ صوبے کے تعلیمی نظام میں موجود انتظامی، سماجی، سکیورٹی اور بنیادی سہولیات کے مسائل کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غیر فعال اسکولوں کا بڑا حصہ ضم شدہ اضلاع میں واقع ہے۔ وہاں 411 سرکاری اسکول بند ہیں، جبکہ بندوبستی اضلاع میں ایسے اسکولوں کی تعداد 216 ہے۔

ضم شدہ اضلاع میں سکیورٹی مسائل، دشوار گزار جغرافیہ، آبادی کی نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی کمی طویل عرصے سے چیلنج رہی ہے۔ ان مسائل کا براہ راست اثر تعلیمی اداروں پر بھی پڑا ہے۔ کئی علاقوں میں اسکول تک رسائی مشکل ہے، جبکہ اساتذہ کی باقاعدہ تعیناتی اور ان کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

سالانہ سروے میں اسکولوں کے غیر فعال ہونے کی مختلف وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 226 اسکول اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال ہیں۔

یعنی عمارت موجود ہے، مگر اسے چلانے کے لیے تدریسی عملہ موجود نہیں۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر اسکول کی عمارت تعمیر کردی گئی ہے تو وہاں استاد کی تعیناتی کیوں یقینی نہیں بنائی جا سکی؟ تعلیمی سہولت صرف عمارت تعمیر کرنے کا نام نہیں۔ اسکول کو فعال رکھنے کے لیے استاد، طلبہ، بنیادی سہولیات اور مسلسل انتظامی نگرانی بھی ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق 66 اسکول طلبہ نہ ہونے کے باعث غیر فعال ہیں۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں آبادی کی منتقلی، خاندانوں کی نقل مکانی، اسکولوں تک رسائی کے مسائل اور بعض علاقوں میں تعلیمی سہولیات پر عوامی اعتماد کی کمی شامل ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب 28 اسکول مقامی تنازعات جبکہ 11 اسکول عمارتوں پر قبضے کے باعث بند ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف اساتذہ یا طلبہ کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ بعض علاقوں میں اسکولوں کے تحفظ اور انتظامی نگرانی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

اضلاع کے لحاظ سے شمالی وزیرستان 111 غیر فعال اسکولوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ جنوبی وزیرستان اپر میں 99 جبکہ اپر کوہستان میں 68 اسکول بند ہیں۔

ان علاقوں میں دشوار گزار راستے، کمزور مواصلاتی نظام، دور دراز آبادیاں اور ماضی کے سکیورٹی چیلنجز تعلیمی اداروں کو فعال رکھنے میں رکاوٹ رہے ہیں۔ تاہم مشکلات اپنی جگہ، اسکولوں کی طویل بندش بچوں کے تعلیمی مستقبل پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

کسی اسکول کا غیر فعال ہونا صرف ایک عمارت کا بند ہونا نہیں۔ جب بچوں کو اپنے علاقے میں تعلیم کی سہولت میسر نہ ہو تو والدین کے لیے انہیں دوسرے علاقوں میں بھیجنا مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض خاندان مالی یا جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث بچوں کی تعلیم ہی روک دیتے ہیں۔

یہ 627 اسکول محکمہ تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور ہیں، لیکن مسئلہ ناقابلِ حل نہیں۔ جہاں استاد کی کمی ہے وہاں فوری تعیناتی، جہاں عمارت کا مسئلہ ہے وہاں بحالی اور جہاں بچے نہیں آ رہے وہاں والدین کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہر غیر فعال اسکول کی صورتحال کا الگ جائزہ لیا جائے اور اس کی بندش کی اصل وجہ کے مطابق حل نکالا جائے۔ ضلعی سطح پر نگرانی اور بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ یہ معاملہ صرف سالانہ رپورٹ تک محدود نہ رہے۔

آخرکار، یہ 627 اسکول صرف اعداد و شمار نہیں۔ ہر بند اسکول کے پیچھے ایسے بچوں کا مستقبل ہے جو استاد، کتاب اور کلاس روم کے منتظر ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان اسکولوں کو دوبارہ کب اور کیسے فعال کیا جائے گا؟

دیکھیے: اڈیالہ کا بیانیہ یا خیبر پختونخوا کے عوام؟

متعلقہ مضامین

ترناب فارم میں چمکنی تھانے کی چیک پوسٹ پر دستی بم حملے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

August 27, 2026

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 19 دہشتگرد ہلاک، اہم عسکری کمانڈر گرفتار اور 3 مغوی بازیاب کرا لیے گئے۔

August 27, 2026

معاشی ماہرین نے شبر زیدی کی سی پیک پر تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے نے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کو سہارا دیا ہے۔

August 27, 2026

آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، پاکستان ایک سال کے لیے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالے گا۔

August 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *