مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون میں حالیہ دنوں تیزی سے وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اگر اسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو وہ اس پیشکش پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی کویت کے ساتھ بھی ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے، جس سے خطے میں مسلم ممالک کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کا رجحان مزید نمایاں ہو رہا ہے۔
بنگلہ دیشی مؤقف
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا، کیونکہ یہ معاہدے کے بانی ممالک کی خواہش پر منحصر ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ڈھاکا کو باقاعدہ دعوت دی گئی تو وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا اور ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔
خلیل الرحمن نے مکہ معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اجتماعی دفاع کا ایک نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم ممالک کا باہمی معاملہ ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر بھی کہہ چکے ہیں کہ ڈھاکا نے مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں
مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والی یہ پیش رفتیں ۔۔۔۔۔ مکہ معاہدہ، اس میں مصر اور اب بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت، اور پاکستان کویت دفاعی معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسلم ممالک باہمی دفاعی اور تزویراتی تعاون کو ایک نئی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان معاہدوں کو خطے میں اجتماعی سلامتی اور استحکام کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر بنگلہ دیش باضابطہ طور پر مکہ معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید وسعت دے گا، جو مبصرین کے نزدیک علاقائی سطح پر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کی جانب اشارہ ہے۔
دیکھیے: پاکستان اور کویت کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق، نئے معاہدے پر دستخط