"> مکہ دفاعی معاہدہ: بنگلہ دیش کی شمولیت پر مثبت غور
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مکہ معاہدہ مسلم ممالک کا اندرونی معاملہ ہے، کسی اور کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے: بنگلہ دیش

مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کی بات سامنے آگئی، جبکہ پاکستان اور کویت کے درمیان بھی دفاعی تعاون کا نیا معاہدہ طے پا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدہ: بنگلہ دیش کی شمولیت پر مثبت غور

بنگلہ دیش کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر مثبت غور کا عندیہ، مسلم ممالک کے دفاعی تعاون کے دائرے میں وسعت کے امکانات بڑھ گئے۔

August 28, 2026

مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون میں حالیہ دنوں تیزی سے وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اگر اسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو وہ اس پیشکش پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی کویت کے ساتھ بھی ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے، جس سے خطے میں مسلم ممالک کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کا رجحان مزید نمایاں ہو رہا ہے۔

بنگلہ دیشی مؤقف

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا، کیونکہ یہ معاہدے کے بانی ممالک کی خواہش پر منحصر ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ڈھاکا کو باقاعدہ دعوت دی گئی تو وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا اور ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

خلیل الرحمن نے مکہ معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اجتماعی دفاع کا ایک نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم ممالک کا باہمی معاملہ ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر بھی کہہ چکے ہیں کہ ڈھاکا نے مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والی یہ پیش رفتیں ۔۔۔۔۔ مکہ معاہدہ، اس میں مصر اور اب بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت، اور پاکستان کویت دفاعی معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسلم ممالک باہمی دفاعی اور تزویراتی تعاون کو ایک نئی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان معاہدوں کو خطے میں اجتماعی سلامتی اور استحکام کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر بنگلہ دیش باضابطہ طور پر مکہ معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید وسعت دے گا، جو مبصرین کے نزدیک علاقائی سطح پر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کی جانب اشارہ ہے۔

دیکھیے: پاکستان اور کویت کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق، نئے معاہدے پر دستخط

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *