افغانستان کے صوبہ بغلان کے ضلع خوست میں طالبان فورسز کی جانب سے دو نوجوانوں کے قتل اور ان کی لاشیں سرِعام نمائش کے لیے رکھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا مزید گہری کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں نوجوان روزگار کی غرض سے کان کنی کے لیے بدخشاں جا رہے تھے اور ان کا کسی بھی مزاحمتی گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم انہیں طالبان فورسز نے نشانہ بنا کر قتل کر دیا اور بعد ازاں ان کی لاشیں عوامی مقامات پر لٹکا دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مقتولین کے اہلِ خانہ کو لاشوں تک رسائی دینے سے بھی انکار کیا گیا، جبکہ لاشوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی نے متاثرہ خاندانوں کی تکلیف میں مزید اضافہ کر دیا۔ لاشوں کی سرِعام نمائش کو مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنے اور مزاحمت یا اختلاف کی کسی بھی کوشش کو دبانے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بغلان کی وادی میں اس نوعیت کے مبینہ واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن کے باعث مقامی آبادی میں خوف، بے چینی اور طالبان حکومت کے خلاف ناراضی میں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور لاشوں کی عوامی نمائش ایسے اقدامات ہیں جو مقامی سطح پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے خوف کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان واقعات نے افغانستان میں شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ایسے اقدامات کی شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
دیکھیے: طالبان کا بھاری نقصان کے بعد امریکہ و بھارت سے مدد طلب کرنے کا انکشاف