افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے منسوب بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لڑائی میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد طالبان نے امریکہ اور بھارت سے مدد طلب کی۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ طالبان کے اس طرزِ عمل پر اہم سوالات اٹھاتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کشیدگی کے دوران اسے بیرونی طاقتوں کی حمایت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پاکستان طویل عرصے سے طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے محفوظ ٹھکانوں اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے حملوں پر اسلام آباد بارہا کابل سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرچکا ہے۔
دفاعی اقدام
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی اس کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ سفارتی رابطوں، مذاکرات اور بار بار کی تنبیہات کے باوجود اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے جاری رہیں تو اسلام آباد اپنے دفاع کے لیے اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
Afghan Taliban spokesperson Zabihullah Mujahid has admitted that the Afghan Taliban begged both the United States and India for support after taking heavy losses from the Pakistan Army. pic.twitter.com/rUfqoTDjlC
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) August 26, 2026
اسی پس منظر میں پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کیں، جس کے نتیجے میں سرحد پار موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھا۔
طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر امریکہ اور بھارت سے مدد طلب کرنے کا دعویٰ اس لیے بھی اہم ہے کہ طالبان ماضی میں دونوں ممالک کو اپنے بڑے مخالفین کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
اب پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں نقصان کے بعد انہی طاقتوں سے مدد لینے کی بات طالبان کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتی ہے۔ یہ صورت حال اس تاثر کو تقویت دے سکتی ہے کہ طالبان قیادت اپنے اقتدار اور عسکری مفادات کے تحفظ کے لیے بدلتے حالات میں کسی بھی بیرونی حمایت کی طرف دیکھ سکتی ہے۔
بھارت سے متعلق مؤقف
پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ اور پاکستان مخالف عناصر کی سرگرمیاں اس کے لیے سکیورٹی تشویش کا باعث ہیں۔
طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے روابط نے بھی اسلام آباد کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم بھارت پاکستان کی جانب سے عائد دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، اس لیے ان دعوؤں کو شواہد کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
اصل سوال افغان سرزمین کا
پاکستان کا بنیادی مطالبہ بدستور یہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ طالبان حکومت اگر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتی تو اسے ٹی ٹی پی سمیت ایسے تمام گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنا ہوگی جو پاکستان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بھی طالبان کی سکیورٹی صلاحیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو افغانستان کے اندرونی مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کے بجائے کابل کو اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔
طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر امریکہ اور بھارت سے مدد طلب کرنے کا معاملہ اسی لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کا مسئلہ محض دو طرفہ اختلاف نہیں بلکہ خطے کی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے: افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ طالبان حکومت کو الزام تراشی کے بجائے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات سے اپنی پوزیشن ثابت کرنا ہوگی۔