خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں سرکاری تعلیمی ادارے کے طلبہ اپنے اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے احتجاج پر مجبور ہوگئے، جس کے بعد صوبائی حکومت کے تعلیمی اصلاحات اور گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
طلبہ نے اسکول کی صورتحال اور درپیش مسائل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ بنیادی تعلیمی سہولیات سے متعلق مسائل حل نہ ہونے کے باعث انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
واقعے نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برس سے جاری تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کے باوجود سرکاری اسکولوں میں بنیادی مسائل کیوں موجود ہیں۔
تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے؟
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بہتری، اصلاحات اور گڈ گورننس کے دعوے مسلسل کیے جاتے رہے ہیں، تاہم کرک میں طلبہ کا سڑکوں پر آنا ان دعووں کی عملی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک سرکاری اسکول کے مسائل حل کرنے کے لیے طلبہ کو احتجاج کرنا پڑے تو متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے اپنی ذمہ داری کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟
خیبرپختونخوا میں 12 سال سے نافذ نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی
— Irfan Khan (@irfijournalist) August 28, 2026
یہ ہے خیبرپختونخوا کا ضلع کرک جہاں سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ احتجاج پر مجبور ہیں
اپنے حلقہ کا ایک سرکاری سکول ٹھیک کر نہیں سکتے اور اس حلقہ سے منتخب انقلابی رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک ملک میں انقلاب لانے نکلے ہیں
یہ گڈ… pic.twitter.com/yI42PVE3ZX
کرک کے واقعے کے بعد مقامی منتخب نمائندوں کی کارکردگی بھی زیر بحث آگئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری اپنے حلقوں میں تعلیم، صحت اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ قومی سطح کی سیاست کے ساتھ اپنے حلقے کے بنیادی مسائل کے حل کو کتنی ترجیح دی جا رہی ہے۔
صوبائی حکومت سے جواب طلبی
واقعے کے بعد صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات کے ساتھ گورنر خیبرپختونخوا کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ صوبے کے سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے کیا مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کرک کے طلبہ کا احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں تعلیم اور گڈ گورننس کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیا جاتا ہے۔ اس واقعے نے حکومتی دعوؤں اور زمینی صورتحال کے درمیان موجود فرق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔