"> کرک میں طلبہ کا دھرنا، صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کرک میں طلبہ کا دھرنا، صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوالات

سرکاری اسکول کے مسائل حل نہ ہونے پر کرک کے طلبہ کا احتجاج، خیبرپختونخوا حکومت کی تعلیمی کارکردگی پر سوال اٹھ گئے۔
کرک میں طلبہ کا دھرنا

کرک میں سرکاری اسکول کے طلبہ کا احتجاج، خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے تعلیمی دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

August 29, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں سرکاری تعلیمی ادارے کے طلبہ اپنے اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے احتجاج پر مجبور ہوگئے، جس کے بعد صوبائی حکومت کے تعلیمی اصلاحات اور گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

طلبہ نے اسکول کی صورتحال اور درپیش مسائل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ بنیادی تعلیمی سہولیات سے متعلق مسائل حل نہ ہونے کے باعث انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

واقعے نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برس سے جاری تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کے باوجود سرکاری اسکولوں میں بنیادی مسائل کیوں موجود ہیں۔

تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے؟

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بہتری، اصلاحات اور گڈ گورننس کے دعوے مسلسل کیے جاتے رہے ہیں، تاہم کرک میں طلبہ کا سڑکوں پر آنا ان دعووں کی عملی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک سرکاری اسکول کے مسائل حل کرنے کے لیے طلبہ کو احتجاج کرنا پڑے تو متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے اپنی ذمہ داری کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟

کرک کے واقعے کے بعد مقامی منتخب نمائندوں کی کارکردگی بھی زیر بحث آگئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری اپنے حلقوں میں تعلیم، صحت اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ قومی سطح کی سیاست کے ساتھ اپنے حلقے کے بنیادی مسائل کے حل کو کتنی ترجیح دی جا رہی ہے۔

صوبائی حکومت سے جواب طلبی

واقعے کے بعد صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات کے ساتھ گورنر خیبرپختونخوا کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ صوبے کے سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے کیا مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کرک کے طلبہ کا احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں تعلیم اور گڈ گورننس کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیا جاتا ہے۔ اس واقعے نے حکومتی دعوؤں اور زمینی صورتحال کے درمیان موجود فرق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *