وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سانحہ پمز کی ابتدائی انکوائری رپورٹ پر اجلاس ہوا، جس میں رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سانحے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے متعلق سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں پمز کے بعض افسران کو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ دار افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے پمز کے 10 ذمہ داران کو ملازمت سے فارغ کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ اہم عہدوں پر تعینات افسران کو ہٹا کر ان کی جگہ پیشہ ور افراد تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اجلاس میں پمز کے انتظامی امور بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دینے کی سفارش پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عمل جلد شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
دیکھیے: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سانحۂ پمز سے متعلق اجلاس طلب کر لیا